Thursday, March 15, 2012

پتھرمیں پھول


جنہیں جانا ہوتا ہے وہ کبھی رکتے نہیں ہیں۔ مجھے تو یہ بات چھ سال کی عمر میں پتہ چل گئی تھی۔ اور میں نے تہیہ کیا تھا کہ میں زندگی میں کبھی دوبارہ یہ حماقت نہیں کروں گا۔لیکن وہ زندگی ہی کیا جس میں غلطیاں نہ ہوں اور دہرائی بھی نہ جائیں! مجھے غلطیاں بری نہیں لگتیں بشرطیکہ ان کا ازالہ ممکن ہو۔ لیکن کیا کہیں کہ جس کا ازالہ ہو جائے وہ غلطی نہیں ، جو جا کر لوٹ آئے سمجھو گیا ہی نہیں۔

پہلی بار مجھ سے یہ غلطی اس وقت سرزد ہوئی تھی جب میرے بابا دوبئی سے چھٹیاں گزارنے واپس آئے تھے۔ ان کے آتے ہی گھر میں یکدم رونق آگئی تھی۔ ہر روز دعوتیں ہوتیں۔ سب بہت خوش تھے ایک ماہ گزرا تو بابا نے واپسی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جس روز وہ جانے کے لئے اپنا سامان پیک کر رہے تھے میں نے رو رو کر آنکھیں سرخ کر لیں بابا مجھے دلاسہ دیتے اور پھر بیگ میں کپڑوں کی تہہ لگانے میں مصروف ہو جاتے۔ شام کو وہ جانے کے لئے اٹھے تو میں بے اختیار بابا کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ امی تایا اور دادا نے مجھے بابا سے الگ کرنے کی بہتری کوشش کی لیکن میں کسی جونک کی طرح ان سے چمٹا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے بابا نے مجھے اپنی ٹانگوں سے الگ کیا اور تایا نے مجھے اپنے بازوں کے شکنجے میں کس لیا۔ میں بری طرح مچل رہا تھا جو قریب آیا اس کے بال نوچے تایا کے بازو میں پوری قوت سے دانت گارٹھے دادا دلاسہ دینے آئے تو ہاتھ مار کر ان کی ٹوپی اور چشمہ گرا دیا، بابا دروازے سے باہر نکل چکے تھے ابھی وہ گاڑی میں سامان رکھ رہے تھے کہ میں خود کو چھڑاکر دوڑتا ہوا دروازے سے باہر آگیا اور پھر سے بابا کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ بابا نے مجھے اٹھا کر سینے سے لگایا میرے آنسو صاف کئے چچا کو ٹکٹ واپس کروانے کے لئے بھیج دیا اور خود سامان لے کر واپس گھر آگئے۔ میں مطئمن اور اپنی فتح پر مسرور تھا۔ ہفتے بعد ایک روز میں صبح سو کر اٹھا تو بابا خاموشی سے بغیر بتائے جاچکے تھے۔
اب رونا دھونا بے سود تھا۔ جنہیں جانا ہوتا ہے وہ رکتے نہیں۔ لاکھ آہ و زاری کریں۔ بابا کو جانا تھا سو وہ چلے گئے۔ گھر کی فضاءپر اداسیوں کے ڈیرے تھے۔ آنے والے اپنے ساتھ ڈھیروں خوشیاں لے کر آتے ہیں اور جاتے ہوئے پہلے سے موجود خوشیاں بھی اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔ میں یہ سبق کبھی نہیں بھولا۔ پھر میں نے کبھی کسی کو روکا نہیں۔ لیکن مجھے کسی کے رخصت ہونے کا منظر کبھی اچھا نہیں لگا۔ اسکول اور کالج کے دوست وقت کے ساتھ ساتھ بچھڑتے رہے۔ دل میں آباد قبرستان پھیلتا رہا۔
اسکول سے کالج تک میرا اپنے دوستوں سے بہت گہرا تعلق رہا۔ لیکن اگر کبھی وہ جانے کی اجازت طلب کرتے تو میں انہیں مزید دو گھڑی بیٹھنے کے لئے نہیں کہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت پختہ ہوتی چلی گئی۔ یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو نئے تعلق استوار ہوئے۔ میرے گروپ میں انعم، عروج، فرحین اور محسن غزالی شامل تھے۔ دو سمسٹرز مکمل ہوئے تو ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بھی شروع ہوگیا۔ سمسٹر کے دنوں میں وہ میرے گھر پڑھائی کے لئے جمع ہوتے یا کبھی ویسے ملنے کے لئے آجاتے اور کچھ وقت گزارنے کے بعد جب وہ جانے کا قصد کرتے تو میں ان کے ساتھ ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا۔ شروع میں انہیں میرا رویہ عجیب سا لگا۔ بے تکلفی بڑھی تو وہ اپنی ناگواری چھپانے سے گریز کرنے لگے۔
انعم اور محسن غزالی تو اس بات پر باقاعدہ چڑ جاتے تھے۔ انعم اکثر جھنجھلا کر کہتی، دانیال تم یکدم کتنے بے حس اور جذبات سے عاری ہو جاتے ہو، بالکل اجنبی.... جیسے کسی کو سرے سے پہچانتے ہی نہیں ہو۔ عجیب رویہ ہے تمہارا۔ کوئی آئے تو بچھے چلے جاتے ہو اور کوئی جانے کے لئے کہے تو اخلاقاً بھی اسے کچھ دیر بیٹھنے کے لئے نہیں کہتے۔ لگتا ہے تمہارے پاس دل نہیں پتھر ہے اور پتھر کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو وہ پتھر ہی ہوتا ہے۔ خواہ کتنی ہی بارش کیوں نہ ہو اس پر کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔
اس کی پوری گفتگو میں محسن غزالی ہاں میں ہاں ملاتا رہتا اسے بالآخر انعم سے ہاں کہلوانی تھی۔ ایسے موقع پر میں ہمیشہ اسے دل ہی دل میں کوستے ہوئے نسلوں کے زن مرید کے القابات سے نوازتا۔
بی بی اے آنرز کے آخری سمسٹر سے فارغ ہوتے ہی سر سے ایک دم بوجھ اتر گیا۔
ان چاروں نے پروگرام بنایا اور اتوار کو میرے گھر آگئے۔ کھانے کی ٹیبل پر ان کے علاوہ میرے بابا اور امی بھی موجود تھیں۔ ہم سب نے اکھٹے کھانا کھایا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد انعم نے عام سے لہجے میں کہا مجھے جانا ہے۔ اگلے ہفتے شاید پھر آں۔میں ربوٹ کی طرح اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ امی اور بابا نے مجھے ملامت بھری نظروں سے دیکھا۔ بابا نے کہا۔ بیٹا بیٹھو میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گا۔ محسن اور عروج بھی اسے کچھ دیر مزید رکنے کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس نے غصے سے ایک نظر میری طرف دیکھا اور خاصے تلخ لہجے میں بولی۔
تمہیں اگر میرا یہاں بیٹھنا اتنا ناگوار گزر رہا تھا تو آنے سے منع کر دیتے۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔
وہ غصے سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی اور بابا کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ انکل آپ کے صاحبزادے ہمیشہ دانستہ یہ حرکت کرتے ہیں۔ اپنی اس حرکت سے وہ دوسروں کو یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ انہیں کسی کی پروا نہیں ہے۔ اس لئے کہ موصوف انتہائی خود پسند ہیں۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
بابا میرے دوستوں اور مجھ میں زیادہ فرق نہیں رکھتے تھے۔ بیرون ملک سے واپسی پر وہ ہمیشہ میرے تمام دوستوں کے لئے ڈھیروں تحائف لے کر آتے تھے۔ انعم کے یوں برا مان جانے پر وہ خاصے پریشان ہوگئے تھے۔
بیٹا اس بیوقوف کو چھوڑو یہ تمہارے تایا کا گھر ہے تم کہو تو اسے ابھی کان سے پکڑ کر باہر کر دوں۔
بابا کی بات پر غزالی کا رنگ فق ہوگیا تھا جسے سب نے واضح طور پر محسوس کیا۔
بابا نے مسکرا کر غزالی کو دیکھا اور بولے میں نے تم میں اور دانیال میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔ کیوں اپنی جان ہلکان کر رہے ہو۔
انعم نے وقتی طور پر اپنا غصہ ضبط کر لیا تھا وہ بابا اور امی کے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی۔
تم آخر اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟
وہی جو اس عمر میں ہر نوجوان اپنے آپ کو سمجھتا ہے! میں نے دانستہ چڑایا۔
یوں تو سارے مرد ہی انا پرست ہوتے ہیں لیکن تم کچھ زیادہ ہی اپنی ذات کے پجاری ہو۔
تم کبھی کسی سے محبت نہیں کرسکتے۔ اپنے والدین سے بھی نہیں اس لئے کہ تمیں صرف اپنے آپ سے محبت ہے۔ وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔
غزالی کا سر اس کی تائید میں خود بخود ہلنا شروع ہوگیا۔ اس وقت وہ مجھے شاہ دولہ کے چوہے کی طرح لگ رہا تھا۔
ہاں تمہارا تو شجرہ نسب ننھیال کی طرف سے ضرور شیریں یا لیلیٰ سے ملتا ہوگا۔
بکواس بند کرو۔ اس کی آواز خاصی بلند تھی۔
دیکھو۔ میں خود پرست نہیں ہوں بس جو جانا چاہے اسے روکتا نہیں ہوں اور نہ کبھی روکوں گا۔
میں نے نرم لہجے میں کہا۔
تم ثابت کر رہے ہو کہ تمہارے بارے میں میری رائے درست ہے۔ تم مردوں کا ازل سے یہ مسئلہ ہے۔ کہ تمہارے کان محبت کا اقرار سننے کے لئے ترستے رہتے ہیں۔
تمہاری ساری تگ و دو صرف اسی لئے ہوتی ہے اور جونہی تمہارے کانوں میں یہ جملہ پہنچتا ہے تمہاری انا کو تسکین مل جاتی ہے۔ پھر تم ایک فاتح بن جاتے ہو۔ اپنے مفتوحہ قلعے پر فتح کا پھریرا لہراتے ہو اور پھر تمہاری مہم جو طبیعت تمہیں کسی دوسرے قلعے کی طرف لے جاتی ہے۔ غزالی کا رنگ اڑا رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس وقت اپنے آپ کو مردوں کی فہرست سے نکال کر کسی دوسری جنس میں شامل کر لے۔
میں نے بیچارگی سے فرحین اور عروج کی طرف دیکھا۔ وہ بدستور غیر جانبدار تھیں یا کم از کم میری حمایت کے لئے آمادہ نہیں تھیں۔
تم آخر دوسروں کو یہ احساس کیوں دلاتے ہو کہ تمہاری نظر میں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس کا غصہ اب تک سرد نہیں ہوا تھا۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے تمہیں بتایا نا کہ جانے والے کبھی رکا نہیں کرتے۔ میرے لہجہ میں کچھ ایسی بیچارگی تھی کہ اس کا رویہ یکدم تبدیل ہوگیا۔
وہ کچھ دیر میرے چہرے پر نظر نہ آنے والی عبارت پڑھنے کی کوشش کرتی رہی پھر انتہائی نرمی سے بولی۔
دانیال! ہوسکتا ہے کہ کوئی رکنا چاہتا ہو۔ صرف تمہارے اشارے کا منتظر ہو۔ جانے کا کہہ کر رکنے کی اجازت طلب کر رہا ہو۔
ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو یہ محض میرا گمان ہو۔ میں نے جواب دیا۔
تو پھر کیا ہوا! وہ عام سے لہجے میں بے پروائی سے بولی۔
تمہارے لئے یہ عام سی بات ہوگی میرے لئے نہیں۔
انعم تم ٹھیک کہتی ہو۔ پتھروں پر محبت کی کونپلیں نہیں پھوٹا کرتی۔ غزالی نے انعم کو دوبارہ اشتعال دلانے کی کوشش کی۔
میں نے اپنی نگاہیں غزالی کے چہرے پر مرکوز کیں اور تنبیہی لہجے میں بولا۔
کبھی اس پر کوئی کونپل پھوٹ پڑے تو پودے کو جڑ سمیت کسی دوسری مٹی میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پتھر اپنا سینہ چیر کر اس کی جڑوں کو اپنے اندر پیوست کر لیتا ہے۔ پھر کوئی آندھی اس پودے کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔
ایسی کونپل ایسا پودا لاو

¿ گے کہاں سے جو پتھر میں جڑ پکڑ سکے، فرحین نے میرے لہجے کا برا مانے بغیر جواب دیا۔
امی کو چائے لاتے دیکھ کر میں خاموش ہو کر رہ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان سے چائے کی ٹرے لی اور سب کے لئے چائے بنانی شروع کر دی۔
میں نے چائے کی پیالی فرحین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ تم مطمئن رہو۔ اگر میں نے کسی کو روک لیا تو پھر اسے جانے نہیں دوں گا خواہ مجھے دنیا سے ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں نے دوسری پیالی غزالی کی طرف بڑھائی اور اپنی آنکھ کا کونا دباتے ہوئے بولا۔ مجھے بچھو کی طرح راہ چلتے ہر جگہ ڈنگ مارنے کی عادت نہیں ہے کہ زہر کا اثر ہی ختم ہو جائے 24 گھنٹے میں ساری تڑپ ختم۔

میری نگاہیں چاروں اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے کسی خالی ٹیبل کے بجائے ایک بھری ہوئی میز پر جا کر رکی گئی اور میں اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ گیا۔
مانا کہ بڑا روح پرور منظر ہے ایمان کئی گنا بڑھ گیا ہوگا لیکن اب قدم اٹھا ورنہ ساری عمر یہیں گزار دو گے۔ لگ بھگ 60 سالہ شخص نے کھنکار کر مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ ان کے ساتھ انہیں کی ایک ہم عمر خاتون کھڑی مسکرا رہی تھیں۔ میں نے خجالت اور شرمندگی سے ان کی طرف دیکھا اور پھر اس کی ٹیبل کے قریب جا کر ایک خالی میز سنبھال لی۔
آپ کو ہمارے یہاں بیٹھنے پر یقیناً اعتراض نہیں ہوگا لیکن ہم یہاں ہی بیٹھیں گے۔ وہ دونوں میرے سر پر کھڑے زیر لب مسکرا رہے تھے۔ خاتون کی عمر 50 سال کے لگ بھگ تھی اور وہ انتہائی باوقار دکھائی دے رہی تھیں۔ میں ان کی عمروں سے زیادہ ان دونوں کی شخصیت سے مرعوب ہوتے ہوئے بے اختیار اپنی جگہ سے احتراماً کھڑا ہوگیا اور اپنی خجالت کو بھول کر پوری خوشدلی سے انہیں بیٹھنے کی دعوت دی۔
بیٹا ہم تمہارے لئے ہی یہاں آکر بیٹھے ہیں اب تم فیملی کے ساتھ بیٹھے ہو سمجھے۔
خاتون نے بیٹا خاصی اپنائیت سے کہا تھا اور جملہ ادا کرتے ہوئے بڑے صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
دونوں خاصے خوش مزاج معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بڑے سے لوازمات سیلقے سے میز پر سجائے بڑے میاں نے گردن گھما کر اپنے عقب میں موجود ٹیبل کی طرف دیکھا اور بولے۔
ویسے تمہاری پسند کی داد دینی پڑے گی۔ وہ ایک بار مجھے شرمندہ کرنا چاہتے تھے۔ میں نے برگر جوس اور دیگر چیزیں واپس سمیٹ کر ٹرے میں رکھنی شروع کر دی۔ میں ایک چیز ٹرے میں رکھ کر کسی دوسری چیز کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو ان کی اہلیہ پہلی چیز ٹرے سے اٹھا کر واپس ٹیبل پر رکھ دیتیں۔ میں اپنے آپ کو ایک بے بس بچے کی طرح محسوس کر رہا تھا۔
میں نے بے چارگی سے ان کے شوہر کی طرف دیکھا۔ وہ برابر مسکرائے جارہے تھے۔ وہ اپنی عمر گزار چکے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں اب تک شراتی بچوں جیسی چمک تھی۔
انہوں نے جیب سے قیمتی پین نکالا۔ ٹشو پیپر پر آڑھی ترچھی لکیریں ماریں اور اسے تعویز کی شکل میں لپیٹ کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔
گھول کر پلا دو سنگ دل....
میں ان کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ انہوں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ان کی گرفت خاصی مضبوط تھی۔ وہ انتہائی نرم اور شفیق لہجے میں بولے۔ بیٹھ جا.... میں نہ چاہتے ہوئے بھی واپس بیٹھ گیا۔
ہماری شادی کو 35 سال گزر چکے ہیں ہمیں آج بھی ایک دوسرے سے بے انتہا محبت ہے شاید اسی لئے کوئی ہمارے درمیان اس محبت کو تقسیم کرنے کے لئے نہیں آیا۔
انہوں نے اپنے کرب کا اظہار بھی انتہائی خوبصورتی سے کیا تھا۔
خیر.... کیا اراہ ہے اب تمہارا۔ انہوں نے گفتگو کا رخ ایک بار پھر اسی طرف موڑ دیا۔
بائیک لے کر گھر تک چھوڑنے جاں گا، اور کیا کروں گا۔ میں نے بے دھڑک جواب دیا۔
وہ دونوں کھکھلا کر ہنس پڑے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی طرف دیکھا اور بولے دیکھا میرا اندازہ درست نکلا یا نہیں!
بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے تمہاری اور میں نے اس کی چوری پکڑی تھی۔
جب تم قطار میں کھڑے تھے تو اس کی نگاہیں تم پر مرکوز تھیں۔ اس کی نگاہوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہم نے تمہیں دیکھا تھا۔ جب تم ٹرے لے کر واپس پلٹے اور اسے دیکھتے ہی مبہوت ہو کر رہ گئے۔ تو بے اختیار ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔
اب بس اتنا کرنا کہ گھر جاتے ہوئے بائیک ہواں میں اڑاتے مت پھرنا، ان کی اہلیہ بولیں۔ ہم کھانا کھاتے ہوئے گفتگو کرتے رہے انہیں ملے ہوئے نصف گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ایک تکون ہیں، وہ عمروں کے فرق کا زرہ برابر بھی احساس نہیں ہونے دے رہے تھے۔
بیٹا شادی میں بلا گے ہمیں ! خاتون نے بڑی اپنائیت سے پوچھا۔
جی امی جان کیوں نہیں۔ ماں کی غیر موجودگی میں شادی ہو بھی کیسے سکتی ہے۔ بس آپ ابھی جا کر منگنی کی انگوٹھی پہنا دیں۔ میں نے نادانستگی میں طنزاً خاصی گہری بات کردی۔ ان پر ایک لمحہ کے لیے سکتہ طاری ہوگیا۔ پھر انہوں نے اپنی انگلی میں موجود ڈائمنڈ کی انگوٹھی اتاری اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئیں۔ میں سٹپٹا کر رہ گیا۔
ارے آنٹی آپ بیٹھ جائیں۔ میں نے جھنجھلا کر کہا۔
ان کے شوہر نے پیپسی کا پیپر گلاس خالی کرکے میز پر رکھا اور بولے۔
آئی کنٹیکٹ ؟
اب تو وہ آنکھوں میں ہی تشریف فرما ہیں۔ میں نے اس پر سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
چلو ! تعویز بنا .... وہ بولے
کیا .... ؟
احمق کوئی کاغذ ہے تمہارے پاس
نہیں !
ٹشو پیپر اٹھا، اور جب وہ تمہاری طرف دیکھے تو اس پر اپنا موبائل فون نمبر لکھو اور جب ٹرے ڈسٹ بن میں پھینکنے جا تو ٹشو پیپر ڈسٹ بن کے اوپر رکھ دینا۔ مشورہ دینے کے بعد وہ کھلکھلا کر ہنسے اور داد طلب نظروں سے اپنی اہلیہ کی طرف دیکھنے لگے۔
اس کے ساتھ آئے ہوئے اس کی فیملی کے تمام لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے، وہ دانستہ تاخیر سے کام لے رہی تھی، کئی مرتبہ میری اور اس کی نظریں ملیں، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میری آنکھیں ان انگاروں کی مانند ہو رہی تھیں جو آہستہ آہستہ سلگ رہے ہوں، وہ میری نگاہوں کی تپش سے بے نیاز بیٹھی تھی شاید اس نے اپنے چہرے پہ کسی کریم کے بجائے پلاسٹک کوٹنگ کی ہوئی تھی، ہر مرتبہ میری آنکھوں سے نکلنے والی ریز اس نظر نہ آنے والی پلاسٹک کوٹنگ سے ٹکرا کر واپس آ جاتیں، مجھے اپنی آنکھوں پر بہت گھمنڈ تھا لیکن آج....
سنا نہیں تم نے .... انہوں نے میری محویت توڑ دی۔
میں نے ٹشو پیپر لہرا کر ٹیبل پر اس طرح رکھا کہ اسے آسانی سے نظر آ جائے پھر اس پر اپنا نمبر لکھتے ہوئے جیب سے موبائل فون نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔ نمبر لکھنے کے بعد میں نے تینوں ٹرے اوپر تلے رکھ کر اس میں ڈسپوز ایبل گلاس اور بچھی کچھی اشیاءسمیٹنی شروع کردیں۔
خاتون نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا، اس نے بھی اب چیزیں سمیٹنی شروع کردی ہوں گی ہے نا ! میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ٹرے اٹھا کر کونے میں موجود ڈسٹ بن کی طرف بڑھ گیا، کچرے کی ٹرے بن میں پھینکی اور ٹشو پیپر بن کے اوپر رکھ کر دھڑکتے دل سے واپس مڑا۔
وہ ٹرے اٹھائے عین میرے سامنے کھڑی تھی کسی حسین خواب کی تعبیر کی طرح، ایک لمحے کو میری اور اس کی آنکھیں چار ہوئیں۔ میری سلگتی ہوئی آنکھیں یکدم دہکنے لگیں۔ سرخ انگاروں کی طرح جن میں کوئی شعلہ سا کوندنے کو ہو۔ پھر جیسے کوئی انہونی ہوگئی پلاسٹک کوٹنگ کی تہہ موم بن کر بہہ گئی اور وہ موم، اس کا سفید چہرہ سرخ ہوگیا اور پھر سرخی یہاں تک بڑھی کہ اس کے مسام جلتے ہوئے محسوس ہونے لگے، اس کی ساری خود اعتمادی غائب ہوگئی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں لرزش تھی۔ اس نے اپنی نگاہیں جھکائیں اور پہلو بچاتے ہوئے بن کی طرف بڑھ گئی۔
اپنی ٹیبل کی طرف جاتے ہوئے میری چال میں عجیب سی سرشاری تھی، میں نے گردن موڑ کر ایک نظر پیچھے دیکھا وہ پیپر اٹھا چکی تھی، اس کی وضع قطع سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خاصے ایڈوانس گھرانے سے ہے۔
میری پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھیں۔ خاتون نے پلیٹ میں موجود ٹشو پیپر اٹھا کر خود ہی بڑی محبت سے میرا پسینہ پونچھ ڈالا۔
ان کے شوہر نے دوسرے ٹشو پیپر پر نرم ہاتھوں سے اپنا فون نمبر اور گھر کا پتہ لکھ کر میری طرف بڑھایا اور بولے ہمیں پاکستان آئے ہوئے 6 ماہ ہی ہوئے ہیں، ہمیں کسی کی کمی محسوس نہیں ہوتی لیکن پتہ نہیں کیوں تمہاری کمی بہت محسوس ہوگی، وقت ملے یا نہ ملے آتے جاتے رہنا۔
وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ روانہ ہوگئی میں کافی دیر تک اس ”نوبیاہتا“ جوڑے کے ساتھ بیٹھا رہا۔ میں جب جانے کے لیے اٹھتا وہ دوبارہ بیٹھنے پر مجبور کردیتے، میری بے چینی محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا۔
کیا خیال ہے تمہارا وہ فون کرے گی !
ہاں ضرور .... انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولیں میرا خیال ہے کہ آج ہی رات گئے کسی وقت۔
ان کا اندازہ سو فیصد درست نکلا، میں ان سے رخصت ہو کر گھر آیا، رات کوئی ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب میرا موبائل فون بجنا شروع ہوگیا۔ میں نے چند لمحے انتظار کے بعد فون اٹھا لیا۔
جس طرح تم اپنا نمبر بانٹتے پھرتے ہو اس طرح تو کوئی ہینڈ بل بھی تقسیم نہیں کرتا، اس نے براہ راست مجھے تم سے مخاطب کرتے ہوئے طنز کیا۔
میں اس کے پہلے جملے پر ہی گڑ بڑا کر رہ گیا۔
کیا ہوا چپ کیوں لگ گئی ؟ اس نے پوچھا۔
میں تو اپنی عادت سے مجبور ہوں کم از کم تم ہی اپنے آپ کو فون کرنے سے باز رکھتی۔
اس کی حد سے زیادہ خود اعتمادی اور لب و لہجہ سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ اس کی اسکولنگ کہاں سے ہوتی ہے۔
تمہارا نام کیا ہے۔
دانیال !
اور تمہارا
علیزا !
آئندہ کوئی پوچھے تو پورا نام بتائیے گا علیزا دانیال !
کچھ زیادہ اعتماد نہیں ہے تمہیں اپنے آپ پر وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی۔
صرف اپنے آپ پر اعتماد کرنے سے کچھ نہیں ہوتا بسا اوقات دوسروں پر بھی آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا پڑتا ہے۔
فون بند ہونے سے قبل ہم ایک دوسرے کو خاصی حد تک جان چکے تھے۔ سونے سے قبل میں اس کے جملوں کو دہراتے مسکرا رہا تھا، جانے کب آنکھ لگی۔ صبح ہوئی یونیورسٹی کی تعطیلات تھیں دن بڑی مشکل سے کاٹا شام ہوئی تو میں نے گاڑی لی اور شہریار صاحب کا گھر ڈھونڈنے نکل گیا، ان کا گھر ڈھونڈنے میں مجھے زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ ڈیفنس فیز 5 میں ہزار گزر پر ان کا خوبصورت گھر بنا ہوا تھا۔ بیل بجانے پر بوڑھے چوکیدار نے دروازہ کھولا۔ نام پوچھنے پر اس نے انٹر کام پر اطلاع دی اور مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا، سامنے دروازے سے شہریار انکل نمودار ہوئے مجھے دیکھتے ہی کھل اٹھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور بولے ہم صبح سے تمہارے منتظر تھے۔
ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہی تھے کہ آنٹی بھی آگئیں انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گئیں۔
کیا معاملہ رہا! وہ یقیناً میرے دمکتے ہوئے چہرہ سے اندازہ لگا چکی تھیں۔
معاملہ تو ٹھیک ہے بس آپ کو مجھے گود لینا پڑے گا۔ میں نے کمرے کی آرائش پر نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا۔
بیٹا! گود تو تمہیں اسی لمحے لے لیا تھا جب تہمیں دیکھا تھا۔ جب تم چہرے پر معصومیت لئے مبہوت کھڑے تھے مجھے اس لمحے یوں لگا کہ جیسے تم میرے ہی بیٹے ہو تم یقین مانو کہ جب تم نے مذاق میں کہا تھا کہ امی آپ جا کر انگھوٹی پہنا دیں تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے سامنے میرا بیٹا بیٹھا ہو میری آنکھوں کے سامنے گھٹنوں کے بل چلتے جوان ہونے والا بیٹا، اگر تم مجھے اس وقت نہ روکتے تو میں اسی لمحے جا کر اسے انگھوٹی پہنا دیتی پھر جو ہوتا دیکھا جاتا۔
میں رات بھر سوچتی رہی کہ کاش تم میرے بیٹے ہوتے۔ میں صبح سے تمہاری آمد کی منتظر تھی، کئی بار میں چوکیدار سے پوچھ چکی تھی حالانکہ تم آتے تو گھر ہی آتے، بات کرتے کرتے ان کی آواز رندھ گئی تھی۔
ارے آنٹی میں مذاق کر رہا تھا، میں نے جذباتیت کی فضاءکو کم کرنے کی کوشش کی، میں رات گئے تک ان کے ساتھ بیٹھا رہا، کھانا کھانے کے بعد جانے کی اجازت طلب کی تو وہ بولیں بیٹا پورا گھر خالی ہے جو کمرہ چاہو اپنے لئے منتخب کرلو۔
میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا اور پھر کچھ نہ سمجھتے ہوئے حامی بھرلی۔
دونوں نے مجھے دروازے سے باہر آ کر رخصت کیا۔
دو ہفتہ بعد میں اسی ریستوران میں علیزا کے ہمراہ بیٹھا تھا، میری آنکھیں پھر سے جلنا شروع ہوگئی تھیں، میں اس کے چہرے کی طرف دیکھنے سے دانستہ گریز کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب وہ جانے کے لئے کہے گی اور میں باوجود چاہتے ہوئے بھی اسے روکنے کی ہمت نہ کر پاں گا۔
خاموش کیوں ہو فون پر تو بہت زبان چل رہی تھی، تمہیں تو پتہ ہی ہوگا تعریف لڑکیوں کی کمزوری ہوتی ہے کیا الفاظ کا انتخاب کر رہے ہو؟
حسن کی انتہا یہ ہے کہ اسے دیکھتے ہی انسان کی زبان گنگ ہو جائے اور دیکھ لو میری زبان گنگ ہے۔
ہوں! ایسے نہیں ،کوئی آسمان سے تارے توڑ لانے کی ہی بات دوہرا دو۔
خدا نے چاہا تو تمہاری گود میں ہوں گے، میں نے جواب دیا۔
وہ ہنستے ہوئے بولی آسان پر چمکتے ہوئے تارے ہی ہوں گے نا!
اچھی تربیت کروگی تو آسمان پر تاروں کی چمک بھی ان کے سامنے مانند پڑ جائے گی۔
نہیں بتا مجھے آسمان سے تارے توڑ کر لا گے، اس نے ایک بات پکڑ لی تھی۔
میں فرہاد کی طرح بیوقوف نہیں کہ دودھ کی نہر بہانے یا آسمان سے تارے توڑ لانے کی تگ و دو کرتا رہوں اور تم کسی اور سے منسوب ہو جا۔ ہاں یہ وعدہ ہے کہ دھرتی پر کھلنے والے خوشبوں کے تمام خوش رنگ پھولوں سے تمہارا دامن بھر دوں گا۔
اس نے اسٹرا سے جوس پیٹے ہوئے ایک نظر میری طرف دیکھا، ایک لمحے کو میری اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں اور وہ بے اختیار بولی، تمہاری آنکھیں غضب کی ہیں۔
کوئی کمزور دل والا ان کی تاب نہیں لاسکتا، پتہ ہے اسکول میں ٹیچرز ہمیں یہ سکھاتے تھے کہ نگاہیں ملا کر بات کرو اور کسی کی بات من و عن تسلیم کرنے کے بجائے آر گومنٹ کرو خواب آپ کو مخاطب کرنے والا کوئی بھی ہو۔
میں تم سے آر گومنٹ کرسکتی ہوں لیکن نظریں ملائے بغیر تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں بھرپور زندگی سے معمور
اچھا تو تعریف ایسے کی جاتی ہے، آپ مجھے یہ بتانا چاہتی ہیں!
نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں۔
ہاں صرف اس وقت تک جب تک میری نگاہوں کے سامنے کوئی خوبصورت چہرہ ہو وہ سارا حسن میری آنکھیں اپنے اندر سمولیتی ہیں، اسے یوں کشید کرلیتی ہیں جیسے گلاب سے عرق لبا لب بھر جاتی ہیں تم میری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی ہو، اسی لئے یہ تمہیں خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں۔
مجھے دیکھتے ہوئے کیا محسوس کرتے ہو ؟
بالکل ویسا ہی احساس جو کسی حبس زدہ کمرے سے نکل کر کسی سرسبز شبنم سے بھیگی گھاس کے قطع پر صبح کے وقت ننگے پاں چلنے والے کو ہوتا ہے، آنکھیں تو کیا روح تک دھل سی جاتی ہے، عجیب سے تراوٹ انگ انگ میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ویسی ہی سرشاری....
تم کچھ زیادہ جذباتی واقع نہیں ہوئے۔ وہ میری بات کاٹتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولی۔
میں غیر متوقع دخل اندازی سے حیران رہ گیا۔
ہاں کیوں کہ تمہارے حصے کے جذبات بھی میرے حصے میں آگئے ہیں اور تمہارے پاس اب کوئی رمق بھی نہیں ہے۔
کوئی کسی کے بغیر مرتا نہیں ہے، وہ لاپروائی سے بولی۔
یہی تو مصیبت ہے کہ مرتا نہیں ہے میں جواب دیتے ہوئے پہلی بار اس کے سراپے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس کی شخصیت کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ میری کلاس فیلوز سے یکسر مختلف تھی۔
تم اتنی تیز خوشبو کیوں استعمال کرتی ہو۔
کیا مطلب؟
مطلب یہ کہ ارد گرد کے لوگ بھی اس خوشبو کو محسوس کر رہے ہیں حالانکہ ان کا تم سے کوئی تعلق بھی نہیں۔
تو کیا میں ان کے نتھنوں میں روئی گھسیڑ دوں، وہ تڑخ کر بولی۔
پہلی ملاقات کا انجام اسی تلخی پر ہوا تھا۔ طبیعت بوجھل ہو گئی تھی، میں نے شہریار انکل کے گھر کی راہ لی۔
آنٹی بہت سرد مزاج ہے، بلکہ اس کے مزاج کا تو پتہ ہی نہیں چلتا لیکن .... لیکن کیا، انہوں نے پوچھا۔
لیکن یہ ہے کہ وہ مجھے پسند ہے وہ بے انتہا حسین ہے۔
یہ تو کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیا دنیا میں اس سے زیادہ حسین لڑکیاں نہیں ہوں گی۔ عشق کی طرح حسن بھی حدوں سے ماوراءہوتا ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں، وہ بولیں۔ کیا پتہ آپ ٹھیک کہتی ہوں، لیکن مجھے تو اس کائنات کا سارا حسن اس کے وجود کا حصہ نظر آتا ہے اس سے الگ کرکے دیکھوں تو یہ دنیا ایسے ہی لگتی ہے جیسے روح کے بغیر پڑا ہوا تدفین کا منتظر بدن.... مجھے لگتا ہے کہ میرے ارد گرد کا سارا حسن اس کا عکس ہوں، اس کی پرچھائیاں، اس سے مستعار لیا گیا ہو۔
میری بات مکمل ہونے سے قبل شہر یار انکل کمرے میں داخل ہوئے مجھے گلے لگانے کے بعد میرے برابر میں ہی صوفے پر بیٹھ گئے۔
بیٹا! کسی بھی فرد کو محض اس کے حسین ہونے کی بدولت ساری عمر نہیں چاہا جاسکتا۔ زندگی کے کسی نہ کی موڑ پر ہم اس کے اندر وہ خوبیاں وہ اوصاف تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کسی بھی شخصیت کا اصل حسن ہوتی ہیں۔
اگر یہ تلاش کامیاب ہو تو اصل حسن نکھر کر سامنے آتا ہے ورنہ....
انکل! آپ عمر کے جس حصے میں ہیں آپ کو ایسی ہی باتیں کرنی چاہئیں میں فوری طریقہ علاج پر یقین رکھتا ہوں۔ مجھے اس کے سائیڈ ایفیکٹس سے کوئی سرورکار نہیں۔ یہ ہومیوپیتھی آپ کو مبارک۔
وہ میری بات سن کر مسکرائے اور میری نبض پر انگلیاں جماتے ہوئے کسی ماہر نباض حکیم کے سے لب و لہجہ میں بولے۔ آج کل ضعف بصر اور اختلاج قلب کی بیماریاں عام ہیں۔ حقیقت میں بیماری صرف ضعف بصر ہے جو اختلاج قلب کو جنم دیتی ہے۔
کیا مطلب؟
وہ بولے۔ مثلاً یہ کہ تم اچھے ماحول میں پلے بڑھے ہو اس لئے کہ تمہارے والدکے پاس دولت ہے۔ اسی لئے تم آئی بی اے سے ایم بی اے کر رہے ہو جس کی وجہ سے تمہارا مستقبل روشن ہے۔ تمہاری پرسنالٹی بہت زور دار ہے۔ اس لئے کہ تم نیکسٹ اور مارکس اینڈ اسپنسر کے کپڑے پہنتے ہو۔ تمہاری جینز ڈیزل یارینگلر کی ہوتی ہے۔ جو ہمیشہ دوبئی سے خریدی جاتی ہے۔ تمہاری شخصیت اس لئے بھی متاثر کن ہے کہ تم انتہائی قیمتی پرفیوم استعمال کرتے ہو۔ تمہارے پاں میں کبھی 150 ڈالر سے کم کا جوتا نہیں ہوتا۔ بائیک تم محض شوقیہ استعمال کرتے ہو۔ تمہارے پاس ذاتی کار موجود ہے۔ مثلاً یہ کہ تم فیاض بھی ہو اس لئے کہ دوستوں کے ساتھ آو

¿ٹنگ میں پارٹیوں میں اور ٹورز میں تم کھلے دل سے خرچ کرتے ہو۔ اس لئے.... اس لئے کہ تمہارے والد کا دوبئی میں بزنس ہے پیسہ کی ریل پیل ہے۔ تہماری زندگی کا ہر پہلو پیسے سے بندھا ہے اور یہی ضعف بصر ہے۔ ایک ایک چیز اپنے آپ سے الگ کرتے رہو اور پھر سوچو کہ تم کہاں کھڑے ہو۔
یہ سب کچھ مجھے میسر ہے اس لئے آپ مجھے قصور وار ٹھہرا رہے ہیں کیا میں تارک الدینا ہو جاں۔ جنگلوں میں نکل جاں۔ لوگوں سے کنارہ کشی کر لوں۔ سنیاس لے لوں کیا کروں۔ میں نے جھنجھلا کر کہا۔
میں تمہیں ہرگز قصور وار نہیں ٹھہرا رہا ہوں میں تو معیارات اور رائج الوقت پیمانوں کی بات کر رہا ہوں۔ اب دیکھو۔ وہ بہت بولڈ ہے۔ یہ اس کا وصف ہے نا! اس کی آنکھیں روشن اور جلد دمکتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی خوراک کا بہت خیال رکھتی ہے۔ واٹمنز اور کلوریز کا پورا چارٹ ہوگا۔ اس کے پاس مثلاً یہ کہ بہت کلچرڈ ہے اس لئے کہ وہ تمہاری طرح اپر مڈل کلاس سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایلٹ کلاس سے ہے۔
آپ آخر کہنا کیا چاہتے ہیںکیا انسان اپنا خیال نہ رکھے۔ میسر سہولتوں سے استفادہ نہ کرے۔ میں بالوں میں جیل یا برل کریم کے بجائے انہیں چپکانے کے لئے ویسلین لگایا کروں یا وہ سرسوں کا تیل استعمال کرے۔
میں نے یہ کب کہا میں تو فقط یہ عرض کر رہا ہوں کہ ،انہوں نے بیٹھے بیٹھے اپنی پوزیشن تبدیل کی اور بات جاری رکھتے ہوئے بولے ،انسان ضعف بصر کا شکار ہو تو اسے اختلاج قلب ہو جاتا ہے۔ بینائی چھن بھی جائے تو دل کی آنکھ ٹھوکروں سے بچاتی رہتی ہے۔ اور دل نابینا ہو جائے تو نگاہیں بھٹکتی رہی ہیں۔ لوگ چیزوں سے نہیں جذبوں سے اور تعلق سے پہچانے جاتے ہیں۔
مجھے بیزار دیکھ کر انہوں نے ایک لمحہ خاموشی اخیتار کی پھر میری اسکن ٹائیٹ شرٹ میں پھنسی ہوئی بازوں کی مچھلیوں اور پیٹ کے سکس پیکس کی طرح دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جسم تو خوب بنا لیا تم نے.... کتنا وقت صرف کرتے ہو جسم میں۔
دو گھنٹے! میں نے فخر سے سینہ پھیلاتے ہوئے جواب دیا۔
ہوں.... اس کا چوتھائی وقت مشاہدہ میں صرف کیا کرو۔ مشاہدہ کی قوت بھی بڑھ جائے گی۔ چیزوں کو ان کی بنیاد میں جا کر دیکھو۔ ہیرا محض کوئلہ موتی پانی کا قطرہ.... دل کی بیماری سے بچنے کا یہ واحد طریقہ ہے۔
کوشش کروں گا میں نے بے دلی سے کہا۔
مجھے اکتاہٹ کا شکار دیکھ کر آنٹی نے مداخلت کی اور بولیں۔
چھوڑ بیٹا یہ بتا کیسی لگی وہ تمہیں۔
زندگی سے زیادہ حسین.... اس کی مسکراہٹ سوتے میں اچانک مسکرا اٹھنے والے شیر خوار بچے کی مسکراہٹ کی طرح بے ساختہ اور بھرپور ہے۔ ان دو ہفتوں میں کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جب سونے سے پہلے میرے ذہن میں اس کا خیال نہ ہو اور صبح اٹھنے پر پہلا خیال اس کا نہ ہو۔
بیٹا وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے تم بس اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔
ہاں وہ مجھے پسند کرتی ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں پریشانی کی وجہ یہی ہے۔
ٹھیک ہے ناپسند تو نہیں کرتی نا! تم ماسٹرز کرو پھر آگے دیکھتے ہیں۔
ماسٹرز ہو جائے گا لیکن اس کے مزاج کا کیا بنے گا۔
ارے بیٹا حسن اپنی ابتداءمیں ستائش پسند اور اپنی انتہا پر بے نیاز ہوتا ہے جبکہ محبت اپنی ابتدا میں ہی نیاز مند ہوتی ہے اور اپنی انتہا پر سراپا نیاز۔ انکل نے لقمہ دیا۔
ماسٹرز کی کلاسز شروع ہوگئیں۔ مہینے میں ایک دو بار ہماری ملاقات ہوتی۔ فون پر ہر دوسرے تیسرے روز بات ہو جاتی تھی۔ البتہ شہریار انکل کے گھر غیر حاضری ممکن نہیں تھی۔ تیسرے چوتھے روز وہ طلب کر لیتے تھے۔ انہیں اور آنٹی کو مجھ سے بے پناہ انسیت ہوگئی تھی۔ ہفتہ میں ایک بار ضرور وہ ہمارے گھر آتے تھے۔
ایک روز میں علیزا کے ہمراہ اسی ریستوران میں بیٹھا تھا۔
اگلے ڈیڑھ ماہ میں میں یونیورسٹی سے فارغ ہو جاں گا۔ میں نے تمہید باندھی۔
تو پھر کیا سوچا تم نے؟ اس نے پوچھا۔
میں نے تو بغیر سوچے ایک لمحہ میں فیصلہ کر لیا تھا۔
تم بتا تم نے کیا سوچا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا۔
سوچنا کیا ہے۔ تم میرے اچھے دوست ہو اسی لئے میں یہاں بیٹھی ہوں۔ مجھے اس سے اسی جواب کی توقع تھی۔ لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں میرا منہ کڑوا ہوگیا۔
کیا کہا تم نے دوست؟
ہاں کیوں! ایک لڑکی اور ایک لڑکا اچھے دوست نہیں ہوسکتے کون سی صدی میں رہتے ہو تم۔
میں نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے ٹیبل پر نظریں گاڑ دیں۔
مجھے مزید دوستوں کی ضرورت ہے۔ میرے پاس اچھے دوستوں کی خاصی تعداد موجود ہے اور تم سے ملنے سے بہت پہلے میں نے نئی دوستیاں بنانے کا سلسلہ ترک کرکے پرانی دوستیوں کو نبھانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ میں نے حتیٰ المقدور اپنے لہجے کی تلخی چھپاتے ہوئے کہا۔
تو کیا ہوا انسان کو زندگی بھر اچھے دوستوں کی ضرورت رہتی ہے۔ وہ اسی اطمینان سے بولی۔ جو اس کا خاصہ تھا۔
یہ سب بکواس کی باتیں ہیں۔ تم میری دوست ہو بھی کیسے سکتی ہو۔ ایک لڑکے اور لڑکی کی دوستی کیسے ممکن ہے۔ میں تم سے انعم سے فرحین سے کبھی ضرورت پڑنے پر قرض نہیں لے سکتا۔ اس لئے کہ میں یہ کبھی گوارا نہیں کروں گا۔ ہاں میں غزالی سے ضرور مدد لے سکتا ہوں۔
غزالی میرے کھانے کا بل ادا کرسکتا ہے، تم نہیں۔ مار پیٹ میں غزالی یا میرا کوئی دوسرا دوست میرے ساتھ کھڑا ہوگا تم نہیں اور ہاںغزالی یا میرا کوئی دوست میرے ساتھ یہاں رات بھر بیٹھ سکتا ہے۔ تم نہیں کیوں؟ اس کیوں کا جواب تم اچھی طرح جانتی ہو۔ میں نے اپنے لہجہ میں آمنڈ آنے والے طنز کو دانستہ چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے پلٹ کر جواب دینے کے بجائے خلاف معمول انتہائی نرمی سے پوچھا۔
پہلی دفعہ بات ہونے پر تمہیں بتا دیا تھا۔ میں نے جواب دیا۔
اس نے کوئی جواب دیئے بغیر گارڑی کی چابی اٹھائی اور بولی اچھا مجھے دیر ہو رہی ہے۔ خدا حافظ۔
یہ اس کی عجیب سی عادت تھی۔ بالکل اچانک وہ جانے کو آٹھ کھڑی ہوتی۔ خدا حافظ کہتی اور گھر کی راہ لیتی اور میں منہ دیکھتا رہ جاتا میں اس کی اس عادت سے سمجھوتہ کرچکا تھا۔
لیکن پتہ نہیں کیوں اس روز مجھے اس کی حرکت انتہائی ناگوار گزری۔ اپنی بے وقعتی کے احساس نے مجھے گھیر لیا تھا اس کے جانے کے بعد بھی میں اکیلا بیٹھا رہا۔
خاصی دیر بعد میں شہریار انکل کے گھر آگیا۔ میرا چہرہ اترا ہوا تھا۔ میں کافی دیر سے صوفے پر آنکھیں موندے نیم دراز تھا۔ انکل بظاہر کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے۔
کوئی تعویز! میں نے آنکھیں کھولے بغیر پوچھا۔
بیٹا مشیت کے آگے تعویز، ٹوٹکے بے بس ہوتے ہیں۔
میں نے فون کرکے گھر اطلاع دے دی کہ میں آج شہریار انکل کے گھر رکوں گا۔ میں نے اپنے لئے مختص کردہ کمرے کی راہ لی میں سخت ذہنی دبا کا شکار تھا۔ مجھے بستر پر لیٹے ہوئے بمشکل چند منٹ گزرے تھے آنٹی نیم گرم دودھ میں شہد ملا کر لے آئیں۔
کیا پریشانی ہے بیٹا!
کچھ نہیں! میں نے دودھ کا گلاس خالی کرکے ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
مجھے بھی نہیں بتا گے۔
بتاں گا لیکن ابھی آپ مجھے سونے دیں۔
انہوں نے بچوں کی طرح کمبل میرے چہرے پر ڈالا اور لائٹ بند کرکے واپس چلی گئیں۔ رات ڈیڑھ بجے تک میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا۔ نیند کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ میں خاموشی سے اٹھا اور دبے پاں گھر سے نکلنے کے ارادہ سے نیچے ہال میں آیا۔ آنٹی سامنے صوفے پر بیٹھی تھیں۔
مجھے جیکٹ پہنے اور پاں میں سلیپر کے بجائے جوتے پہنے دیکھ کر وہ میرا ارادہ سمجھ گئی تھیں۔ میں نے متوقع سوالات سے بچنے کے لئے کہا۔
مجھے تو کسی وجہ سے نیند نہیں آرہی آپ اب تک کیوں جاگ رہی ہیں؟
جب بیٹا کسی وجہ سے سو نہ پائے تو ماں کے جاگنے کی وجہ اس کا بیٹا ہوتا ہے۔
اگرچہ وہ میرا بیٹوں کی طرح خیال رکھتی تھیں لیکن پھر انہیں اس بات کا احساس تھا کہ میں ان کا بیٹا نہیں ہوں۔
اچھا۔ آپ کمرے میں جا کر سو جائیں میں بھی سونے جارہا ہوں۔
پھر سے بھاگنے کی کوشش تو نہیں کرو گے؟
نہیں۔ میں نے جواب دیا۔
دن خاصا چڑھ آیا تھا جب انکل نے مجھے اٹھایا۔
بیٹا جمعہ ہے تیاری کرو۔
میں نے جلدی سے غسل کیا اور ان کے ساتھ نماز کے لئے چل دیا۔
نماز ختم ہوئی سفید ریش امام مسجد نے اجتماعی دعا شروع کر دی۔
وہ نام لے لے کر مختلف لوگوں کے لئے دعا کر رہے تھے نمازیوں کی تعداد کم ہوئی تو میں امام صاحب کے پاس جا پہنچا۔
میں چاہتا ہوں کہ آئندہ جمعہ آپ میرے لئے دعا کریں۔
کیا دعا کروں بیٹا! وہ اپنی سفید داڑھی میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے ہوئے بولے۔
یہ جو آپ دعا کرتے ہیں جملہ مومنین کی دلی مرادوں کو پورا فرما۔ بس جملہ مومنین کے بجائے میرا نام لے دیں۔ وہ شہریار انکل کے شناسا تھے انہوں نے ایک نظر شہریار انکل کی طرف اور پھر میری طرف دیکھا۔ میں معاملہ ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر فوراً بولا۔
آپ دعا کریں میں اپنے حصے کی حوروں سے آپ کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں۔
ہاں بیٹا ضرور دعا کروں گا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
گھر واپس آتے ہوئے انکل نے مجھ سے غیر متوقع طور پر پوچھا ”تم اس سے محبت کس بنیاد پر کرتے ہو
وہ بہت خوبصورت ہے، میرا جواب تھا۔
وہ تمہیں پسند کیوں کرتی ہے
اس کا کہنا ہے کہ میں خوبصورت ہوں
ٹھیک، فرض کروکسی وجہ سے تم یا وہ خوبصورت نہ رہے تو پھر کیا ہوگا؟
انکل آپ جانتے نہیں کہ مجھے اس سے کتنی محبت ہے
انکل مسکرا کر بولے، بیٹے جانتا ہوں اسی لیے تو پریشان ہوں۔
میں نے اسے فون نہ کرنے کا تہیہ کیا تھا مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے ”اچھے دوست“ کو ضرور فون کرے گی۔ ایک ہفتہ میں کئی بار اس کا فون آیا لیکن میں نے اٹینڈ نہیں کیا۔
پھر ایک ہفتہ مکمل خاموشی رہی۔ میں نے بمشکل پیپرز کی تیاری کی۔ پیپرز کے دوران اس کا فون آیا۔ وہ خود ہی بولی تم پیپرز دے لو پھر آرام سے بات کریں گے۔ وہ بولی۔
مجھے اپنی بے عزتی کروانے کا کوئی شوق نہیں۔ تم نے جانے کی اجازت طلب نہیں کی تو میں نے تمہیں روکا بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جب تمہارا دل چاہے تم میری زندگی میں آ اور جب دل چاہے چلی جا۔
کیا مطلب؟ اس کے لہجہ میں حیرت تھی۔
دل میں خلل ہو اور دروازے پر کوئی سوالی بھی آ جائے تو دروازہ دھڑ سے بند نہیں کرتے نرمی سے معذرت کر لیتے ہیں۔ میں تم سے سوال کر رہا تھا جواب کے لئے۔ اور تم یوں نظر انداز کرکے چلی گئیں۔ جیسے میں کوئی....
دیکھو اس میں برا ماننے کی ضرورت نہیں تمہیں پتہ ہے جب مجھے کام تھا اس لئے میں....
تم نے ایک مرتبہ نہیں کئی بار یہ حرکت کی ہے۔ میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
ہاں! پھر کیا ہوا۔ جب انسان کو کوئی کام ہو تو وہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ اس کا لہجہ پشیمانی سے عاری تھا۔ وہ اب بھی اپنے آپ کو حق بجانب سمجھ رہی تھی۔
میں نے کبھی ایسا کیا! کیا مجھے کام نہیں ہیں کاموں کو ٹال دیا تمہیں نہیں۔
کام رکتے ہیں نہ لوگ۔ ہاں کام بعد میں بھی ہو جاتے ہیں لوگ پھر ملتے نہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ کاموں پر لوگوں کو ترجیح دی جائے۔ ویسے میں نے زندگی میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو جاتے ہوئے کوئی کام ادھورا چھوڑ کر نہ گیا ہو۔
میں معذرت کرتی ہوں وہ بولی۔
میں تم سے کوئی وضاحت طلب کر رہا ہوں نہ یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے معذرت کرو۔
بس مجھے یہ بات بری لگی تھی اس لئے بتا دیا۔ ہاں ایک بات تمہیں بتانا بھول گیا تھا۔
کیا؟
میں زندگی میں اتنا کچھ کھو چکا ہوں کہ پانا اور کھونا میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ بات میں نے اپنی زندگی میں لاتعداد مرتبہ پوری شرح صدر کے ساتھ کہی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اس روز میری زبان لڑکھڑا گئی۔ شاید میں اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے رہا تھا۔
اچھا باقی باتیں تمہارے پیپرز ختم ہونے کے بعد۔ اس نے فون بند کر دیا۔
جیسے تیسے کرکے میں نے پیپرز دیئے۔ آخری پیپرز کے بعد اسی روز میں شام کو سی ویو پہنچ گیا۔ وہ میری منتظر تھی۔ مجھے ریستوران میں داخل ہوتا دیکھ کر اس نے ٹیبل چھوڑ دی اور میرے پاس آکر بولی۔
اتنے خوشگوار موسم میں یہاں بیٹھنا پرلے درجے کی حماقت ہے چلو آج لمبی واک کرتے ہیں۔
کتنی لمبی واک.... ایک سرے تک پہنچ کر پھر واپسی کا سفر۔ میں نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
کیا تم موڈ غارت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
میں اسے لئے باہر آگیا۔ فٹ پاتھ کے ساتھ بنی ہوئی دو فٹ اونچی منڈیر پر بیٹھ کر اطمینان سے اپنے سینڈل اتارے اور اپنے دائیں پاں کے تولے پر انگلی رکھتی ہوئے بولا۔
دیکھو! میرے پاں کے نیجے دو تل ہیں۔ ایک میرے حصے کا اور ایک تمہارے حصے کا ہم دونوں مل کر زندگی کا سفر طے کریں گے ساری دنیا گھومیں گے۔ سفر کا خوشگوار یا ناخوشگوار ہونا ہمسفروں پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں تل میرے حصے میں آگئے تو بس میں
خاک چھانتا پھروں گا۔
تم میری بات سمجھ رہی ہونا۔ میری زندگی میں بہت سفر ہے۔
اچھا! اٹھو بھی ہمسفر بھی مل جائے گا۔ وہ بولی۔
نہیں! مجھے جواب چاہئے۔ میں اپنی جگہ سے ہلے بغیر بولا۔ وہ چند لمحے چپ چاپ کھڑی رہی۔ اور پھر میرے سامنے بیٹھ گئی۔ میں اس کے بولنے کا منتظر تھا اور وہ سمندر کی لہروں کو دیکھے جارہی تھی۔
دانیال تم جانتے ہو۔ عزیز میرا تایا زاد ہے۔
میں کئی مرتبہ اس کے منہ سے اس کے کزن کے بارے میں سن چکا تھا۔ آج مجھے اس کا تذکرہ زہر لگ رہا تھا۔ میں اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا۔
اگر ایک لمحہ کے لئے یہ فرض کر لیا جائے کہ تہمارے تایا کے گھر میں پیدا ہونا شرف و اعزاز کی بات ہے تو بھی اس میں تمہارے کزن کا کیا کمال ہے۔ کیا وہ اپنے بل بوتے پر تمہارے تایا کے گھر پیدا ہوا تھا۔ اس میں اس کی اہلیت کا کیا عمل داخل ہے بتا مجھے! مجھ میں غصہ ضبط کرنا محال ہو رہا تھا۔
دانیال! وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔
ٹھیک ہے میں ڈوئل فائیٹ کے لئے تیار ہوں۔
وہ میرے بغیر جی نہیں سکے گا۔ اس کا انداز فاتحانہ تھا۔
جینا تو درکنار میں تو تمہارے بغیر مر بھی نہیں سکتا۔
میرے ساتھ میرا پورا خاندان ہے۔ میں ان سے سب سے کٹ کر رہ جاں گی۔ یہ میری پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔
تمہاری تو صرف زندگی کا مسئلہ ہے میری عاقبت کا بھی مسئلہ ہے۔
ہم دونوں خاموش تھے کافی دیر گزر گئی۔
علیزا!
ہوں!
تم کہتی تھیں ناکہ کہ میری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔
اس نے میری طرف دیکھا اور بولی۔ ہاں تمہاری آنکھیں واقعی بہت خوبصورت اور بھرپور ہیں۔
دیکھو ان آنکھوں میں تم ہو اور تم سے وابستہ سینکڑوں ہزاروں حسین خواب ہیں۔ جب تم نہیں ہوگی تو یہ اس فقیر کے کاسوں کی طرح ہو جائیں گی جو سارے شہر میں سر جھکائے گھومنے کے بعد شام کو اپنی کٹیا میں لوٹنے سے قبل پوری امید اور آس کے ساتھ کسی دروازہ پر صدا دے اور پھر مایوس اور نامراد خالی کاسوں کے ساتھ اپنی کٹیا کا رخ کرے جہاں طویل شب اس کی منتظر ہو۔ میری آنکھیں فقیر کے ان کاسوں کی مانند ہو جائیں گی۔
خالی.... بالکل خالی۔ بس ایک ہوک ہوگی ان میں۔
تم آخر سمجھتے کیوں نہیں ہو؟
اس لئے کہ میں تمہیں چاہتا ہوں سمجھنا نہیں چاہتا۔
وہ عذر پیش کرتی رہی میں جواب دیتا رہا سارے حیلے ختم ہوگئے۔ پھر جانے میں نے اس نے اور کیا کیا کہا مجھے کچھ دیا نہیں ہاں اتنا یاد ہے کہ میں نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔ 16 سالہ سال بعد کسی کو روکنے کی کوشش! میرے دماغ میں اس کی پینسل ہیل کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔ وہ کب کی جاچکی تھی۔ اور میں اس کے جانے کے بعد بھی اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہیں بیٹھا اسے سمجھا رہا تھا۔ میرے اردگرد کچھ لوگ جمع ہوتے اور پھر اپنی راہ لیتے میں اسے کہہ رہا تھا دیکھو اسی لئے کہتا ہوں اتنی تیز خوشبو استعمال مت کیا کرو اتنی تیز ہوا ہے جو خوشبو کو اڑائے پھر رہی ہے چلو اٹھو یہاں سے چلیں۔
رات کوئی ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ میرا موبائل فون مسلسل بج رہا تھا جانے کب سے میں نے
بے خیالی میں فون ریسو کرنے کا بٹن دبا دیا اور پھر اپنے خیالوں میں کھو گیا۔
شاید آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا۔ انکل اور آنٹی میرے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے شاید سمندر کی لہروں کے شور سے اندازہ لگایا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ پتہ نہیں وہ مجھے کب سے ڈھونڈ رہے تھے۔ میں نے کھانا ان کے ساتھ کھانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے میرے ہاتھ سے گاڑی کی چابی لے کر ڈرائیور کو تھمائی پھر مجھے سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا۔ میں دونوں ہتھلیوں سے اپنی کنپٹیوں کو دبائے ہوئے عقبی نشست پر بٹھا تھا۔ مجھے سخت سردی لگ رہی تھی۔ اور میرا بدن بری طرح کانپ رہا تھا۔ گھر پہنچتے ہی آنٹی نے مجھے گرم دودھ کے ساتھ بخار اور نیند کی گولیاں دیں۔ مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی تھی۔
بیٹا کیا ہوا تمہیں؟ وہ بار بار پریشانی کے عالم میں ایک ہی سوال پوچھے جارہی تھیں۔
ان کی آنکھیں نم تھیں۔
آنٹی آج آخری پیپر تھا وہی اچھا نہیں ہوا۔ وہ چلی گئی۔
ارے آجائے گی وہ! وہ میری پیشانی اور بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
نہیں وہ اب کبھی نہیں آئے گی۔ میں ہتھلیوں سے اپنا چہرہ اور آنکھوں میںامنڈ آنے والے آنسو چھپاتے ہوئے بولا۔
تو تم نے روکا کیوں نہیں اسے؟
روکا تھا بہت روکا۔ پتہ نہیں نیند کی گولیوں کے اثر یا بخار کی وجہ سے میری زبان لڑکھڑا رہی تھی۔
وہ مجھے بچوں کی طرح سمجھانے لگ گئیں۔
پھر میں سارے راستے بند دیکھ کر بچہ بن گیا۔ ساری انا ایک طرف رکھ کر بچوں کی طرح اس کی ٹانگوں سے لپٹ لیا۔ وہ چلتی رہی اور میں اس کے قدموں کے ساتھ گھسٹا رہا۔ اور کیسے روکتا اسے آپ بتائیں۔ وہ جاتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں اچھے دوست کے طور پر ہمیشہ یاد رکھوں گی۔
پھر! انہوں نے بے چینی سے پوچھا۔
پھر کیا۔ جانے والے بہت سکون اور آسانی کے ساتھ چلے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی آنکھوں میں آنسو لئے اپنی بقیہ تمام عمر اسی مقام پر اسی کیفیت میں گزار دیتے ہیں۔ مجسمے کی طرح.... اگرچہ ان کے پاں تلے دو تل ہوتے ہیں پھر بھی....
نہ جانے جانے والا کب لوٹ آئے اور کہے چلو تمہارا امتحان ختم ہوا۔
لیکن بلاوا آ جاتا ہے وہ نہیں آتے جن کا انتظار ہوتا ہے۔
نیند کی آغوش میں جانے سے قبل مجھے آنٹی کی آواز سنائی دی وہ انکل سے کہہ رہی تھیں۔ صدمہ یا بخار کی شدت سے غشی طاری ہوگئی ہے۔
نہیں.... ضعف بصر کی وجہ سے اختلاج قلب ہوگیا ہے۔ انکل نے دبی آواز میں دل گرفتگی سے جواب دیا۔
........ ........
جب مجھے ہوش آیا تو آنٹی نے مجھے بتایا کہ میں چوبیس گھنٹے اس حالت میں گزار چکا ہوں۔ میرے گھر والوں کو بس اتنی ہی اطلاع دی گئی تھی کہ میں دو ایک دن یہیں رہوں گا اور بس۔ ہوش کا آنا بھی عجیب تھا یوں لگتا تھا حواس کا چھوڑ چکے ہیں۔ ایک دن اور گذرا تو اوسان بحال ہونے لگے۔ انکل اور آنٹی دونوں نے علیز ا کے موضوع پر بات تک نہ کی۔ میں اپنے گھر چلا گیا جہاں کسی کو مجھ پر گذرنے والی قیامت کا علم نہیں تھا۔ اپنے گھر والوں کی بے خبری دیکھ کر مجھے اپنا غم کچھ ہلکا سا لگا، میں جو اندر سے ٹوٹ رہا تھا ایک بار پھر سنبھل گیا۔ اگلے دن انکل گھر آگئے اور مجھے سمندر کے کنارے لے گئے۔
ہاں دوست تمہارا اختلاج قلب ٹھیک ہوا
میں جھینپ سا گیا۔

No comments:

Post a Comment