Friday, December 10, 2010

نیت ، صلاحیت اورترقی

"صرف نیت کافی نہیں ،مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے صلاحیت بھِی ضروری ہے۔" 
زندگی کے لئےعملی رہنمائی مہیا کرنے والے اپنے انتہائی محترم استاد کی زبانی یہ جملہ سن کر اتنا سمجھ نہیں آیا جتنا آنا چاہئے تھا۔لیکن جب سمجھ آیا تو اندازہ ہوا کہ ہم شعور کے ہاتھوں کتنے بڑے ظلم کا شکار ہیں۔ایک ایسا ظلم جس کا ذمہ دار کوئی اورنہیں بلکہ صرف ہم ہیں،کیونکہ شعور تو وہی دکھائے،کروائے یا سنوائے گا جو ہم اس میں فیڈ کریں گے۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ "نیت اچھی ہونی چاہئے "اور ایسا کہنے والا یا والی یہ بات کرتے ہوئے عموما کوئی نا کوئی غلط کام ہی کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ وہ ایک تسلیم شدہ اصول بیان کر کے وہ غلط کام کرتے ہیں لہذا ہمیں یہ اصول لاجواب کر دیتا ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جاہل اپنی جہالت کے لئے درست نیت تلاش کر لیتا ہے،کرپٹ اپنی کرپشن کے لئے،عقل سے عاری اپنی بے عقلی کے لئے،انسانیت سے محروم اپنی بے حمیتی کے لئے اسی "نیت کی درستگی"کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو خرابیاں بخشتے ہیں۔
آئے دیکھتے ہیں نیت اور نتیجہ یاموقع اور اس کے استعمال کے درمیان موجود یہ فرق کیسے مزید واضح ہو سکتا ہے ۔
ایک مریض کسی معروف ہسپتال یا کلینک میں اپنے رشتہ دار کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس چلا جائےجس کی پیشہ وارانہ مہارت پر کوئی شک موجود ہی نہ ہو۔تکلیف میں مبتلا وہ مریض جونہی ہسپتال پہنچے ڈاکٹر صاحب اسے احترام سے اپنے پاس بٹھائیں،وارڈ بوائے کو فورا طلب کریں اور مہمان نوازی کے لئے روایتی مشروبات یا کچھ اور منگوا لیں۔اس سے گھروالوں کے متعلق پوچھیں،خاندان بھر کی مصروفیات کا ذکر کریں۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے یا ان کے احترام کی نیت سے وہ مریض بھی چپکا بیٹھا رہے۔خوب کھلانے پلانے اور بھرپور وقت دینے کے بعد آدھ یا پون گھنٹہ بعد اس سے پوچھیں کہ "ارے آپ نے یہ تو بتایا نہیں کہ آپ کی آمد کیوں ہوئی تھی"اس موقع پر وہ مریض کہے کہ طبیعت میں فلاں خرابی ہے جس کے علاج کی غرض سے آپ کی پاس آنا ہوا تھا۔ڈاکٹر صاحب اس کا علاج کریں اور پانچ منٹ کا یا پہلی ترجیح میں کیا جانے والا کام انتہائی تاخیر سے کروا کر وہ مریض واپس لوٹے۔
اس صورت میں غلط تو ڈاکٹر بھی نہیں جس نے مہمان نوازی کے انسانی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاس آنے والے فرد کو فیور دی،اسے پروٹوکول دیا،وقت اور توجہ دی،کھلایا پلایا۔ اور غلط وہ فرد بھِی نہیں جس نے خاندان اور گھر بھر کی تازہ ترین سنی یا سنائی،ان کے احترام میں طویل وقت بیٹھا رہا۔لیکن اگر موقع اور اس کے استعمال یا نیت اوراس کے نتیجہ کو دیکھا جائے تو ایسے ڈاکٹر کو "پڑھا لکھا ۔۔۔۔۔"کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے جس نے اپنے پاس آنے والے مریض کوعلاج کے بجائے کھلانے پلانے اور حال احوال سمیت پروٹوکول دینے کو ہی ترجیح سمجھا۔ اورایسے مریض کوبے وقوف کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے جس نے اپنے فوری علاج کے بجائے ڈاکٹر کی مہمان نوازی کو ہی کافی سمجھا اور اسی میں مگن رہا۔
آپ کو بہت کم وقت میں کہیں دور پہنچنا ہو،تیزی سے گاڑی چلاتے دائیں بائیں کی پرواہ کئے بغیر ،سخت سیکورٹی کو نظر انداز کر کے سفر طے کر رہے ہوں اور اچانک کسی سگنل پر کوئی عزیز یا شناسا ٹریفک پولیس آفیسر کی صورت مل جائے ۔اسے دیکھ کر آپ فورا گاڑی کو اس کے قریب لے جائیں یا اسے سائیڈ پر کھڑا کر کے خود اتر کر پاس چلے جائیں وہ آپ کو دیکھ کر مسکرائے،آئو بھگت کرے،مشروبات سے تواضع کی دعوت دے،اپنے اور آپ کے مشترکہ موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے ۔اس دوران ہر گزرنے والی گاڑی کا سوار آپ کو رشک سے دیکھتا ہوئے گزرے کہ بڑے بڑے افسروں سے آپ کے تعلقات ہیں اور آپ خود بھی اس پر اتراتے رہیں۔خاصی دیر بعد آپ کو خیال آئے آپ اس سے اجازت لیں اور گاڑی میں بیٹھ کر شاداں وفرحاں روانہ ہو جائیں۔
اس صورت میں کون دونوں کو غلط کہے گا اس نے مہمان نوازنی کی اور آپ نے شناسائی کے سبب اس سے حال احوال پوچھنے کو اپنا وقت خرچ کر کے وہاں رکنا برداشت کیا۔لیکن موقع اور ا سکے استعمال یا نیت اور نتیجہ کو اگر معیار مانا جائے تودونوں اس لئےغلط ثابت ہوں گے کہ ایسے موقع پر آپ اس سے اپنا مقصد بیان کرتے وہ اگر ممکن ہوتا تو آپ کو مخالف سمت کی گاڑیاں روک کے جلدی نکلنے کا راستہ مہیا کرتا،آپ کی منزل تک لے جانے والے نسبتا مختصر راستہ بتا دیتا ،یا آپ کی گاڑی سائیڈ پر پارک کر کے خود اپنی ہوٹر لگی گاڑی پر آپ کو لے کر نکلتا تا کہ سگنل رکاوٹ نہ بنیں اور آپ جلد موقع پر پہنچ جائیں۔
ان دونوں مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی،مسئلہ اقدارکا ہوا یا زندگیوں کی تعمیر کا ،معاشرے کی بہتری مقصد ہو یا کسی چھوٹے کو زندگی کے عملی پہلو سے آگاہ کرنا۔ہر صورت میں ہمیں"نیت درست رکھنے"کو نتیجہ سے وابستہ رکھنا چاہئے اور موقع کو اس کے استعمال سے مشروط۔۔اگر ہماری نیت وہی نتائج پیدا کرے جو اس وقت درکار ہوں تو،تو اسے درست مانا جائے ورنہ نیت کی درستگی محض خود کو بہلانے کا ایک بہانہ ہو گا۔ویسےہی جیسے کپڑے اتر کر عریاں گھومتا کوئی صاحب یا صاحبہ یہ کہے کہ وہ فیشن کے مطابق ایسا کر رہا ہے یا باہمی احترام پر مبنی کسی قدر کو اس لئے نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ آپ کو "بیک ورڈ"کا لقب دلوا دے گی۔
یہ دونوں زندہ مثالیں اپنے سامنے وقوع پزیر ہوتی دیکھ کر میں تو "صرف نیت کافی نہیں مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے صلاحیت بھی ضروری ہے"کو سمجھ گیا تھا ،توقع ہے کہ آپ تک بھی بات پہنچ گئی ہو گی۔میری دانست میں یہ ان چند بنیادی امور میں سے ہے جو ہربچے، نوجوان یا پختہ عمر کے فردکو ترقی کے سفر پر گامزن کر سکتے ہیں۔بلکہ صرف افراد ہی نہیں قومیں بھی انہیں اصولوں کی بنیاد پر بنتی ہیں۔

No comments:

Post a Comment