Tuesday, December 14, 2010

روزگاراہم سہی، خود مختار زندگی بھی ضروری ہے۔۔۔

Employment is Essential...But Principled Living is More Important
ڈاکٹر وکٹر فرینکل آسٹریا کے معروف ماہر نفسیات تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران تقریبا تین سال جرمنی کی قید میں گزارے تھے اور وہاں کی سختیوں کو برداشت کیا تھا۔جنگ کی تباہ کاریوں اور حالات کی سختی نے ان کے آس پاس کے تقریباَ تمام قیدیوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا تھا اور وہ اپنے ہو ش و ہواس کھو بیٹھے تھے۔
قید میں وکٹر کے لئے سب سے سخت لمحات وہ تھے جن میں ایک کے بعد ایک ان کے والد، والدہ اور اہلیہ قید خانے کی سختی کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
لیکن اسی قید کے دوران وکٹر نے وہ اصول و ضوابط مرتب کیے جو آج کی دنیا میں شخصیت سازی کی بیشتر تربیتی ورکشاپس اور ٹریننگ کورسز میں استعمال کیے جاتے ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کس طرح ایسی خود آگاہی اور خود مختاری حاصل کر سکتاہے کہ اپنی زندگی حالات کی رو میں بہہ کر نہیں بلکہ اپنے طے شدہ اصولوں کے تحت گزا ر سکے۔ 
ڈاکٹر وکٹر کے ذہن میں یہ خیال راسخ ہو چکا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد کے حالات تو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن ان حالات پر ردعمل کس طرح کا دیا جاناہے وہ صرف اور صرف انہی پر منحصر ہے۔دیگر قیدیوں کی طرح ا یک ردعمل تو یہ ہو سکتا تھا کہ ان کا ذہن ان کٹھن لمحات کے دوران اپنی گرفت کھو بیٹھتا اور وہ بھی ذہنی مریض بن جاتے اور دوسرا رد عمل جس کا چناﺅ انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اپنے لیے کچھ اصول و ضوابط طے کریں اور پھر ان کی روشنی میں ردعمل کا اظہار کریں۔
ایک دن اپنی تنگ اور تاریک کوٹھڑی میں بیٹھے ہوئے اس تجزیے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ کیا اصول و ضوابط ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا ردعمل حالات کے تحت نہیں بلکہ اپنے طے شدہ اصولوں کے تحت ہو، یہ لمحات ان کے لئے خود آگاہی کے لمحات تھے ۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی یادوں اور خیالات کی مدد سے اپنے ذہن میں لوگوں کو نفسیاتی ریلیف فراہم کرنے کے لیکچرز دینے شروع کر دیے، جیسے ہی قیدخانے کے پر مشقت لمحات میں انہیں آرام کاوقفہ ملتا وہ خیالی لیکچر دینے شروع کر دیتے، شروع میں یہ کام ان کے لئے بہت مشکل تھا خصوصا َ قید خانے کے ماحول میں جہاںگھٹن کا احساس شدید تر   ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اپنی خود مختاری کے حصول کے لئے سر کردہ رہے۔ ایک وقت آیا کہ وہ اپنے اوپر اس قد ر خود مختاری حاصل کر چکے تھے کہ حالات کی سختی ان کے لئے بے معنی ہو چکی تھی، قیدخانے کی گندگی، تشدد اور خوف کی فضاءاور قیدخانے کے افسران کے دباﺅ کو انہوں نے اپنے اصولوں کے ذریعے شکست دے دی۔ اب ان کا رد عمل حالات کے تحت نہیں بلکہ ان کے اپنے اصول و ضوابط کے تحت تھا۔
انتہائی سخت حالات میں ڈاکٹر وکٹر نے وہ آزادی حاصل کرلی جسے بعد میں انہوں نے”انسان کی آخری اور سب سے بڑی آزادی “ کے نام سے موسوم کیا۔ یہ وہ آزادی ہے جو بتاتی ہے کہ انسان چاہے تو اپنی زندگی اپنے طے شدہ فیصلوں کے مطابق گزار سکتا ہے۔ یہ انسان کو خود مختار بناتی ہے اور یہ بات واضح کرتی ہے کہ”حالات چاہے کتنے بھی کٹھن ہوں اور دماغی طور پر کتنی ہی الجھنیں کیوں نہ ہوں ، فیصلے کا اختیار ہمیشہ ہمارے پاس ہوتا ہے۔“
کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو یہ پتا چلتا ہے کہ موجودہ دور میں ہماری خود مختاری بھی حالات کی رو پر بہہ رہی ہے ، چاہے یہ روز گار کی وجہ سے ہو، گھریلو دباﺅ کی وجہ سے ہویا احباب کی وجہ سے۔یہ ہماری زندگی کے وہ دائرے ہیں جو ہماری زندگی کا محور یا مرکز بن چکے ہیں اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اپنی خود مختاری، اپنے ضمیر اور تخیل کے بالکل برعکس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان میں سے کچھ کا اجمالی جائزہ پیش ہے :
پہلا اور سب سے اہم دائرہ دفتر یا روزگار ہے جو ہماری زندگی کے محور کو تبدیل کر دیتا ہے، کچھ لوگ تو اپنی ساری زندگی ہی اسی محور کے گرد گزار دیتے ہیں اور اپنی زندگی پر سے اختیار کو کھوبیٹھتے ہیں، ہماری تمام کوششیں ، صلاحیتیں، وقت اور توانائی صرف اور صرف اس کو فائدہ پہنچانے کے لئے وقف ہو جاتی ہے،تمام زندگی ردعمل میں گزرتی ہے،کبھی باس کے احکامات پر، کبھی اپنے کولیگز کے مطالبات پر اور کاروبار ہونے کی صورت میں اپنے ملازمین کے مطالبات پر رد عمل، نتیجہ آ پ اپنی زندگی کی خود مختاری روزگار، جاب اور کاروبار کی نذر ہو جاتی ہے۔
دوسرا اہم دائرہ گھر اور خاندان ہے جو ہماری زندگی کا مرکز بن جاتا ہے ، کبھی والدین کے خواہشات پر، کبھی بیوی بچوں کے مطالبے پر آپ اپنے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رد عمل ظاہر کرتے ہیں، ہر چند کہ یہ بات درست ہے کہ گھر والوں کو خواہشات اور مطالبات کو سننے اور عمل کرنے میں کوئی برائی نہیں لیکن ان کو اپنی زندگی محور بنا لینا ضرور آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔
کچھ لوگوں کی زندگی کا مرکز ان کے احباب کا دائرہ ہو تا ہے ، دوست کی ناراضگی سے بچنا، ان کی خو شی کے لئے ہر ممکن کوشش ، ان سے بہتر تعلقات کی جد وجہد، ان تعلقات کو قائم رکھنا زندگی کا سب سے اہم کام بن جاتا ہے، اپنی خود مختاری اور اپنے طے شدہ اصول مرکز نہیں رہتے بلکہ تمام زندگی انہی کے پیچھے گزر جاتی ہے ۔
ایک اور دائرہ ہمارے ارد گرد موجود معاشرے کا ہوتا ہے ، ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے بجائے اپنے اصولوں کے یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں معاشرہ اس کی مخالفت نہ کرے اور یہ بہت ہی طاقتور دائرہ ہے جو ہماری زندگی کو اپنی انگلیوں پر نچا رہا ہوتا ہے ۔
یہ چند دائرے ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی ہمارے اپنے اختیار سے نکل کر ان کے گرد گزر رہی ہو تی ہے ، پھر اس پر یہ شکوہ بھی کہ زندگی میں پریشانی بہت ہے، کام کرنے میں مزا نہیں آرہا ہے اور اسی طرح کے اور بہت سے جملے ہیں جو ہم خود کہتے یا ارد گرد کے لوگوں سے سنتے ہیں۔ اس کا حل کیا ہے؟
اپنے لیے کچھ ایسے اصول طے کرلینا جن کے تحت آپ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ اصول نہیں جو لوگ آپ کے لئے طے کریں بلکہ وہ اصول جو آپ اپنے لیے طے کریں اور پھر ان پر مستقل مزاجی سے ڈٹ جانا۔پھر کچھ مقاصد طے کریں انفرادی اور اجتماعی سطح اور ان کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا سیکھیں۔بظاہر یہ بات بہت آسان لگتی ہے لیکن در حقیقت ایسانہیں ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو آپ کی زندگی میں جوہری تبدیلی کر سکتی ہے اور چین ری ایکشن(Chain Reaction) پیدا کرسکتی جو آپ کے خاندان، دفتر ، احباب اور معاشرے کے جانب سے اٹھے گی اور آپ کے لئے اس کا سامنا کر نا مشکل ہو جائے۔ یہ پہلا قدم ہے ۔
پھر اس کے بعد اپنے مقاصد کے حصول کے لئے خود آگاہی کی مدد لیجئے جو آپ کا خود بخود کامیابی کے راستے کی طر ف لے جائے گی ۔ پھر آپ کے پاس اپنے تخیل کی قوت ہے جو آپ کو مقاصد کے حصول کے لئے درکار صلاحیتوں، ضروریات اور وسائل تک پہنچنے میں مدد دے گا۔
پھر یہ تمام چیزیںآپ کو خود مختاری کی طرف لے جائیں گی جو آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ کا رد عمل حالات، خاندان، احباب یا روزگار کے زیر اثر نہیں بلکہ آپ کے اپنے اصولوں کے مطابق ہو اور آپ کی زندگی کو اس قابل بنائی گی کہ''حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہو، فیصلہ کا چناﺅ آپ کے اختیار میں ہو گا۔''

No comments:

Post a Comment