Tuesday, November 30, 2010

وزن جائے چٹخارہ چھوٹنے نہ پائے

موٹاپا، معصومیت بھی کھا جاتاہے

آپ کا وزن ذیادہ ہے یا آپ وزن بڑھنے سےروکنا چاہتے ہیں۔دونوں ہی صورتوں میں آپ کوایسے مسَلہ کا سامنا ہے جو ان دنوں تقریبا ہر نوجوا ن لڑکے اور لڑکی کے لئے شدید ترین الجھن بن چکا ہے۔ورزش کے فائدے تو معلوم ہے مگر وقت کہاں سے آئے،سائیکلنگ شوق بھی ہے لیکن کہاں کی جائے،جاگنگ عمدہ بات مگر جگہ جو نہیں،لائپو سیکشن جیسے جدید طریقے فوری تبدیلی تو لاتے ہیں مگر بھاری بل کون دے،ڈائٹنگ بھی اچھا ٹوٹکا لیکن یہ کیا کہ نہ میٹھا کھائونہ نمکو،اسنیکس سے بھی منہ موڑ لو،پیزا اور برگر سے بھی ناطہ توڑ لو،،رہی روایتی ڈشیں بریانی،قورمہ اور نہاری تو ان سے بھی قطع تعلقی۔اس کیفیت میں انسان جائے تو کہاں جائے؟؟؟آسان سے یہ سوال ،جواب بھی معلوم مگر عمل کون کرے؟؟؟


دنیا میں بلاشبہ لاکھوں افراد اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں ،لیکن ان میں سے اکثرکے لئےیہ آسان کام نہیں۔خود میرے لئے بھی یہ آسان نہیں تھا کہ ایک بہتر ملازمت کی موجودگی میں دن بھر کرسی پر بیٹھے رہنے کے ساتھ پیٹ بڑھنے سے روک سکوں۔لیکن اب وزن کا بڑھا ہونا یا پیٹ نکل آنا کم از کم میرے لئے ناقابل عمل حل جیسا کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ایسا نہیں کہ مجھے جادوئی اثر رکھنے والی کو ئی دوا دستیاب ہو گئی یا آلہ دین کا چراغ مل گیا ہے جس کا جن پلک جھپکتے میں مسئلہ حل کر دیتا ہے۔بلکہ ا سکا سبب یہ ہے کہ مجھے خرابی یعنی وزن بڑھنے کی اصل وجہ سمجھ آ گئی ۔

یہاں تک پہنچنے کے لئے ڈائٹنگ سے لے کر فاقے کرنے تک کیا کچھ نہیں آزمایا۔ارے رے رے ۔۔۔۔ایک منٹ رکیں،مجھے سلم ہونے کا شوق اس لئے نہیں تھا کہ مقابلہ حسن کا فلور میرا منتظر تھا یا پھر سلمان،عامر سے بچ جانے والی کسی فلم سے مجھے آفر آئی تھی بلکہ ا س کا سبب یہ تھا کہ دفتر میں روزمرہ کے کام کرتے ہوئے ہر لمحہ آنکھیں کمپیوٹر اسکرین کے بجائے تیزی سے اپنی حدیں پھلانگتی توند پر رہتیں۔اورالجھن تھی کہ ذہن پر سارے کام چھوڑ، وزن بڑھنے کو ہی سوار رکھتی۔

خاص طور پر ایسی کیفیت میں جب اپنے پروفیشن کے سبب میں یہ بھی جانتا تھا کہ وزن کا بڑھنا بتدریج دل کے امراض،بلڈ پریشر،سانس کی تکلیف،وغیرہ کے پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔یوں تو ڈائٹنگ،جاگنگ،سائیکلنگ،لائپو سیکشن،ورزش،ہربل ادویات،دن میں ڈھیروں پانی پینے وغیرہ سمیت متعدد آپشن تھے جو استعمال ہو سکتے تھے اور کچھ کو مابدولت نے آزمایا بھی۔لیکن مرض بڑھتا گیا گیا جوں جوں دوا کی کہ مصداق کوئی تیر نشانے پر بیٹھتا ہی نہ تھا۔اوپر سے کھانے پینے کی وہ چیزیں بھی سامنے ہونے کے باوجود اپنے لئے ممنوع قرار دے رکھی تھیں جو میری کمزوری کہی جا سکتی ہیں۔

اسی پریشانی کے عالم میں ایک روز مطالعہ کے دوران کہیں پڑھاکہ "بھوک رکھ کر کھانا سنت اور صحت کی علامت ہے"پہلی نظر میں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ بھوک رکھ کر کھانے سے کیا مراد ہے۔دوسری اور تیسری بار پڑھا توحیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔افسوس اس لئے کہ اتنی سامنے کی بات اب تک سجھائی کیوں نہ دی اور حیرت اس لئے کہ وہ گتھی جسے سلجھانے کے نام پر معالجین اور ماہرین ہزاروں اور لاکھوں ہتھیا لیتے ہیں اتنے پہلے بتا دی گئی تھی لیکن ہم پھر بھی لاعلم ہیں۔

وہ دن ہے اور آج کا دن،یہ طے کر رکھا ہے کہ ہر دستر خوان سے اس حالت میں اٹھنا ہے کہ ایک چوتھائی بھوک باقی ہو۔اتنا مزید اضافہ کیا کہ رات کا کھانا سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے کھا لیا جائے اور صبح ناشتہ سے قبل ایک گلاس پانی پی لیاجائے۔اس فارمولے کو اختیار کرنے سے وزن غائب ہونا شروع ہوا ہی ،جسم بھی ہلکا پھلکا لگنے لگا،اب نہ دوپہرکے کھانے کے بعد غنودگی طاری ہونہ کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر بڑھتے پیٹ پر جاکر الجھن کا سبب بنے۔ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

اگر آپ بھی بڑھتے وزن یا تیزی سے باہر نکلتے پیٹ سے پریشان ہیں تو اس اصول کو اپنا لیں ،فرق آپ کو خود محسوس ہونا شروع ہوجائے گا۔پھر نہ"ان"کو پریشانی ہو گی نہ"ان "کو حیرانی۔

4 comments:

  1. ماشا اللہ

    ReplyDelete
  2. bohut khoob....nice and interesting article with a solution of the problem most of the office-workers are facing...

    ReplyDelete
  3. محترم نامعلوم صاحب/صاحبہ
    نیک تمنائوں کا شکریہ

    ReplyDelete
  4. محترم فرحان ظفر صاحب
    ہمت افزائی کاشکریہ

    ReplyDelete