Tuesday, November 30, 2010

قربانی وہ جو فرض بھی نہیں

سردی ہو یا گرمی،شدید بارش ہو یاتیز دھوپ۔کراچی جیسے گنجان آباد شہر کی مصروف ترین سڑک شاہراہ فیصل پر وہ روزانہ روشنی طلوع ہونے سے غروب ہونے تک بیٹھاملتاہے۔

جانے پیدائشی مسئلہ ہے یا کسی حادثے کا نتیجہ،ا س کی بائیں آنکھ کے اوپر گوشت کا اتنا بڑا لوتھڑاباہر کونکلا ہوا ہے کہ آدھا چہرہ ہمیشہ ہی ڈھکا رہتا ہے۔ تقریبا 60برس کی عمر کو پہنچتا وہ شخص دکھنے میں توصحت مند لگتا ہے۔اور اگر چہرے پر بڑھا گوشت نہ ہو تو شاید وہ حقیقت میں بھی صحت مند ہی کہلائے۔

بلوچ کالونی کے پل پرواقع سگنل اس کے دن گزرنے کی جگہ ہے جہاں اسے کوئی بھی سر جھکائے بیٹھا دیکھ سکتا ہے۔البتہ اس وقت جب سگنل بند ہو اور گاڑیاں آکر رک جائیں تو وہ چند لمحات کے لئے اپنا سر اوپر کو اٹھا لیتا ہے۔اس کے سر اٹحانے پر یوں لگتا ہے گویا وہ دنیا کو اپنے ساتھ بیتے لمحات کی داستان سنا رہا ہو۔وہ حالات جنہیں پڑھنے کے لئے چہرہ شناسی ضروری نہیں بس آنکھیں اور ان میں بینائی کا ہونا شرط ہے۔

معاشرے میں بھکاری کہلانے والا یہ کردار ہر قسم کے حالات میں وہاں موجود ہوتا ہے ،البتہ دن کے کسی لمحے وہ چپکے سے کھسک جاتا ہے۔پل کی جنوبی سمت آہستہ آہستہ چلتا وہ نصف گھنٹہ یا اس سے کچھ ذیادہ وقت کے لئے وہاں سے جانے کہاں چلاجاتا ہے؟یہ شاید کم ہی کسی کو پتہ ہو۔یا کم از کم مجھے علم نہ ہو۔

ایسے موقع پرسگنل پرموجود وہ خواتین و مرد بھکاری تو خوش ہوتے ہیں جو اسے اپنا کاروباری رقابت دار مانتے ہیں،لیکن ان لمحوں میں سگنل کے اردگردکی فضاء سوگوار سی ہو جاتی ہے۔جیسے کوئی دل کے انتہائی قریب رہنے والا ہجر کے لمحے بخش جائے تو دل ویران ویران سا لگتا ہے بالکل ویسے ہی وہ بھی سگنل کو ویران سا کر جاتا ہے۔

میرے علم کی حد تک کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ جاتا کہاں ہے،میں بھی نہیں جانتا تھا،مگر ایک روز اسی پل کے قریب واقع ایک عمارت میں جانے کا موقع ملا،جس دوست کے دفتر جانا ہوا،وہ اپنے کسی کلائنٹ کے ساتھ بزنس میٹنگ میں مصروف تھا۔اس دوران وقت گزاری کے لئے میں نے ویٹنگ ایریا میں موجود بروشرز کو کھنگالنا شروع کر دیا۔ اتالیق[دوست کے ادارے کا نام]پبلک ریلیشن،ہیومن ڈویلپمنٹ، سوشل میڈیامارکیٹنگ سمیت کیا کیا کچھ کرتا ہے؟ پرمبنی تعارف شروع کئے چند ہی لمحے ہوئے تھے کہ اچانک نظرکھڑکی سے باہر چلی گئی۔نیچےواقع گلی میں بلوچ کالونی پل کےاس مشہور کردارکو متحرک دیکھ کر آنکھیں اس کا تعاقب کرنے لگیں۔کچھ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں کرنسی نوٹ اٹھا رکھے ہیں۔جو یقینا اس کی کمائی کے ہوں گے۔نظر اس کے چہرے پر آئی تو وہاں معمول کی طرح کوئی تاثرات نہ تھے۔سوچنا چھوڑ کر میں نے بھی اس کا نظری تعاقب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

چند ہی لمحوں میں وہ قریب واقع مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوا،اور وہیں رک گیا۔لوہے کی سلاخوں سے بنے دروازے سے اند رکامنظر واضح طور پر نظر آرہا تھا،میں بھی محویت سے اسے دیکھتارہا،یہ محسوس نہیں کر پایا کہ جس دوست سے ملنے ا س کے دفتر میں بیٹھا ہوں وہ اپنی میٹنگ ختم کر کے میرے پاس آچکا ہے۔اور مجھے باہر متوجہ پا کر خود بھی کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا ہے۔وہ"بھکاری"خاصی دیر مسجد کے دروازے کے اندر کھڑا مصروف رہا۔کچھ دیر بعد اس نےہاتھ آسمان کی جانب اٹھائے،اس کے ہونٹ ہلےاورچندلمحوں میں وہ دروازے کے باہر نکل کر پل کی جانب چل پڑا۔

اس کے نظروں سے غائب ہونے پر جب میں واپس اپنی جائے نشست کی جانب متوجہ ہو اتوپاس ہی اپنے دوست کو کھڑے دیکھ کرایک لمحے کو کنفیوز سا ہو گیا،گویا کسی نے چوری پکڑ لی ہو۔وہ مجھے کنفیوز دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے ہنس پڑا اور گویا ہوا"جسے تم دیکھ رہے تھے نہ جانے کون ہے۔ کہاں سے آتا ہے۔ پل کے اوپر بھیک مانگتا ہے لیکن ہر روز اس وقت مسجد میں آتا ہے دروازے پر لگے چندہ بکس میں اپنی"کمائی"ڈالتا ہے اوردعا مانگنے کے بعد واپس چلا جاتا ہے۔لگتا ہے وہ اپنی آمدن کا صدقہ کسی اور کو دینے کے بجائے اسی ذات کو دے دیتا ہے جو اس کی موجودہ حالات کی ذمہ دارہے [دوست کا اشارہ شاید بھکاری کے چہرے پر بڑھ آنے والےگوشت کے لوتھڑےکی جانب تھا]۔لیکن عجیب انسان ہے معزوری اور بدنمائی کا گلہ کرنے کے بجائے اپنی محنت آکر لٹا جاتا ہے"۔


اپنے دوست کی بات سن کر میرا ذہن چند لمحوں کو مائوف سا ہو گیا کہ ہم جنہیں سب کچھ دے رکھا گیا ہے،کسی لمحے یہ تک نہیں سوچتے کہ جو ہمارے پاس ہے وہ ہمارا حق ہے یا دینے والے نے ہمیں احسان اور نعمت کے طور پر دیا ہے،اگر ذرا سی اونچ نیچ ہو جائے تو اس کو برا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ماں،باپ،بہن بھائی،عزیز رشتہ دار،صلاحیت، تندرستی ،مواقع اورامکانات کیا کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ پر ہم ہیں کہ کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ہم پھر بھی مایوس رہتے ہیں،شکایت ہی یاد رہتی ہے،کمی ہی کا رونا روتے ہیں،مسائل ہی نظر آتے ہیں،چن چن کر ناکامیاں تلاش لیتے ہیں۔ہم سے تو یہ "بھکاری"اچھا جو گلہ کرنے کے بجائے اپنے پاس موجود چیز کو قربان کرنے پر تیار ہے۔حتی کہ وہ قربانی بھی بخوشی دے رہا ہے جو اس کے ذمہ فرض ہی نہیں۔

اس سے آگے میں اتنا ہی سوچ پایا کہ جس ملک میں ایسے کردار زندہ ہوں اسے بھلا کوئی،کیوں نقصان پہنچا سکتا ہے؟

4 comments:

  1. بہت خوب
    بہت عمدہ تاثرات کا بیان
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔

    یہ ہے کن صاحب کی تحریر ؟

    ReplyDelete
  2. نیک تمنائوں کا شکریہ، اگر کچھ خامی ہے تو میں نہیں جانتا اور اگر خوبی ہے تو آپ اسے میری ہی سمجھ لیں۔

    ReplyDelete
  3. صرف اتنی سی بات سمجھ آ جائے نتو سب دلدھر دور ہو جاتے ہيں

    ہم جنہیں سب کچھ دے رکھا گیا ہے،کسی لمحے یہ تک نہیں سوچتے کہ جو ہمارے پاس ہے وہ ہمارا حق ہے یا دینے والے نے ہمیں احسان اور نعمت کے طور پر دیا ہے

    ReplyDelete
  4. محترم افتخار احمد بھوپال صاحب
    تبصرہ کا شکریہ،درست فرمایا آپ نے۔یہ سمجھنا بہت سارے مسئلوں کو ختم کر سکتا ہے
    صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

    ReplyDelete