Wednesday, November 24, 2010

پریشانی،مسئلہ،ٹیلنٹ اور چیلنج

اپنے اردگرد رہنے والوں کی خامیاں نہیں ان کی بنیاد بننے والے مسائل تلاش کریں۔اور ہر فرد کے اندر موجود مثبت اورمفید کام کر سکنے کی پوشیدہ قوت کو باہر لانے کا ذریعہ بن جائیں ۔
ٹیلنٹ یہ نہیں کہ آپ بولتے یا لکھتے بہت اچھا ہیں بلکہ ٹیلنٹ یہ ہے کہ درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ بارہا یہ ہوتا ہے کہ بڑی چاہت سے،پسند کا کوئی کام شروع کرتے ہیں،اس سے شوق کی حد تک لگائو بھی ہوتاہے لیکن وہ نہیں ہو پاتا یاہوکرخراب ہو جاتا ہے،اس کیفیت میں سرنوچ لینے اوردوسروں کو کچا چبا ڈالنے کوجی کرتاہے۔

میڈیا سے لے کر سیاستدانوں تک،عقل مند کہے جانے والے افراد سے لے کر خاندان کے بزرگوں تک،نوکر سے باس تک ہر ایک یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ "ملک میں یہ خراب ہو گیا،وہ خراب ہے،ایسے کام نہیں چلے گا،آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے،کوئی حل کرنے پر تیا رہی نہیں،کرپشن حد سے ذیادہ ہو چکی ہے،انتخابات میں جعلی ووٹنگ ہوتی ہے،مہنگائی کے سبب غریب آدمی مرنے کا ہو چکا ہے،بجلی نہیں ہے،پانی غائب ہے،یوٹیلیٹی اشیاء کا معیار و مقدار دونوں ہی ضرورت سے کم ہے،فلاں پڑوسی بدتمیز ہے،فلاں کو اپنے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا،نوجوان نکمے ہو گئے ہیں،بزرگ سمجھتے ہی نہیں،خواتین ڈھیروں وقت اور سرمایہ غیر ضروری شاپنگ میں خرچ کر دیتی ہیں،نظام تعلیم ناقص ہو چکا ہے،جمہوریت خراب ہے،آمریت بدتر ہے"۔

پریشانیوں اورمسائل کا ایک ڈھیرہے جس نے ہر کسی کو مضطرب کر رکھا ہے۔بہت ساری پریشانیاں ہم ہر روز بھگتتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ویسے ہی رہتے چلے آ رہے ہیں جیسے کوئی شریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے زبان جانور اپنے ،بیہودہ مالک کے ساتھ رہنے پر مجبو رہو تا ہے۔وہ بیچارہ اسے تبدیل اس لئے نہیں کر سکتا کہ اسے ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔اسے چھوڑدینے کی طاقت ہونے کے باوجود یہ نہ ہو جائے اور وہ نہ ہو جائے کہ خدشے کی وجہ سے زندگی بھر عذاب برادشت کرتا رہتا ہے۔
یہ خامیاں ہمیں مجبو رکرتی ہیں کہ ہم ان کے اسباب تلاش کرنے کے بجائے ساری عمر انہی پر بحث کرتے کرتے اگلے دیس سدھار جائیں۔مگر میں نےزندگی کو جتنا کچھ پرکھا اور جانچا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ  ان خامیوں کو تلاش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے بجائے ان کی بنیاد تلاش کی جائے۔مسئلہ کی وجہ کا علم ہو جانا اکثر اوقات آدھے مسئلے کو اسی وقت حل کر دیتا ہے۔

اس فرد کے بارے میں کیا کہیں گے جس کی گاڑی کسی مصروف ترین سڑک کے عین درمیان میں معمولی سی خراب ہو جائے اور وہ اسے وہیں کھڑ اچھوڑ کریہ سوچنا شروع کر دے کہ اسے صحیح کون کرے گا؟چند ہی لمحوں میں پیچھے آنے والی گاڑیوں کے ہارن،ان کے چلانے والوں کے طعنے، اسے اتنا پریشان کر دیں گے کہ وہ بڑے ارمانوں سے خریدی اور سنبھال کر استعمال کی جانے والی گاڑی کو اپنے لئے عذاب ماننا شروع کر دے گا۔لیکن اس صورتحال کی ذمہ داری تو اس پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نیچے اترتے ہی گاڑی کو دھکا لگا کر سڑک کی ایک جانب کرتا،خرابی کی نوعیت جانچتا ،عین ممکن تھا کہ وہ خود ہی اسے دور کر لیتا یا کم از کم مسئلے کے سبب سے ہی واقف ہو جاتا۔اس عرصے میں وہ اس نتیجے پر بھی پہنچ جاتا کہ گاڑی صحیح کرنے کے لئے مطلوب فرد کہاں سے مل سکے گا۔اس عمل کے دوران نہ تو وہ گاڑی کو کوسے گا نہ ہی اپنی قسمت کو۔اورخامی کا سبب بننے والے مسئلے کی نشاندہی ہو جانے پر اسے فورا حل بھی کر لے گا۔

ایسے مرحلے پر ہمارے اندر موجود وہ ٹیلنٹ کام کرتا ہے جو روزانہ کے کاموں کے علاوہ ان پریشانیوں کے اسباب جاننے کے لئے قدرت نے ہر ایک کو دے رکھا ہوتا ہے۔اس کا استعمال کر کےہم فوری طور پرمسئلہ کو دور کرتے ہیں نتیجتا پریشانی غائب،ہم پھر سے مطمئن اور زندگی رواں دواں ہو جاتی ہے۔

پس یہ طے ہوا کہ  اپنے اردگرد رہنے والوں کی خامیاں نہیں ان کی بنیاد بننے والے مسائل تلاش کریں۔اور ہر فرد کے اندر موجود مثبت اورمفید کام کر سکنے کی پوشیدہ قوت کو باہر لانے کا ذریعہ بن جائیں ۔مسئلہ پریشانی بنے بغیر سہولت سے حل ہو جائے گا۔

پھر خواتین غیر ضروری شاپنگ پر ڈھیروں روپے اور وقت خرچ نہیں کریں گی،جمہوریت خراب نہیں رہے گی،نظام تعلیم درست ہو جائے گا،اشیاء سستی اور عام دستیاب ہوں گی،نوجوان کام کے ہو جائیں گے،بزرگ سمجھنے لگیں گے،اورزندگی اس ٹیلنٹ سے بھرپور ہو جائے گی جوچیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے۔

4 comments:

  1. باتیں تو بہت ہيں مگر سمجھ میں کتنوں کو آتی ہيں
    اور سجمھ میں آجائے تو عمل کون کرتا ہے
    ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! !

    ReplyDelete
  2. روشنی سے کسی کا فائدہ حاصل نہ کرنا اس کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔جو چاہے اس سے راستہ دیکھے اور جو چاہے آنکھیں بند کر لے۔ہر فرد کواس کا اختیار ہے۔
    فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ روشنی کا استعمال کرنے والا ٹھوکر کھانے سے بچا رہتا ہے اور جو آنکھیں بند کر لیتا ہے وہ گڑھے کا شکار ہو جاتا ہے

    ReplyDelete
  3. samney ki baat aksar hamen nazar naheen aati.ham in choti choti baton ko ahmiat dena shoro kar dain to yaqeenan boht se masley hal ho saktey hain.
    Shahid sb rasta dikhaney ka shukria.
    Anas Shafeeq

    ReplyDelete
  4. محترم انس شفیق صاحب
    تبصرہ اوراتفاق دونوں کا یکمشت شکریہ قبول فرمائیں۔ "راسہ دکھانے"آپ کا حسن ظن ہے ،دعا کیجئے گا برقرار رہنے کی قوت و استعانت وہ دے جو اس کا مختار ہے

    ReplyDelete