Sunday, November 21, 2010

پ+ا+ک+س+ت+ا+ن

بظاہرچھ لفظوں کا مجموعہ مگر اپنے اندر معانی کا سمندر سموئے ہوئے5ہزار سال قدیم تاریخ رکھنے والااسلامی جمہوریہ پاکستان اپنی عمر کے 64ویں برس میں موجود ہے- پانچ صوبوں،وفاق اور صوبے کے زیر انتظام دو قبائلی علاقوں ایک آزاد اورایک مقبوضہ ریاست پر مشتمل علاقہ دریائے سندھ اورپوٹھوہارکی قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے۔پارسیوں،یونانیوں،افغانوں، عربوں،ترکوں،اور مغلوں کی قیادتیں دیکھنے والے اس خطے نے برطانوی راج کو بھی جھیل رکھا ہے۔
اپنی آزادی کے دوران تعصب کا شکار ہونے کے بعد 1948ء ،1965ءاور1999ء میں کشمیر کے موضوع پر اور1971ء میں مشرقی پاکستان کے عنوان سے بھارت کے ساتھ چار مرتبہ جنگ آزما ہونے والے ایٹمی قوت کا حامل ملک متعدد خوشنما پھولوں کا حسین گلدستہ ہے۔
جغرافیہ
رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 250سے زائد ممالک میں چھتیسویں نمبر کے ملک کو قدرت کی جانب سے عطا کردہ جغرافیہ انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ 23تا37ڈگری شمال اور61-76ڈگری مشرق میں واقع پاکستان کا کل رقبہ8 لاکھ 3ہزار940مربع کلو میٹر ، زمینی علاقے کا رقبہ7لاکھ70ہزار875جب کہ آبی حصہ 25ہزار220مربع کلو میٹر ہے۔۔پارلیمانی نظام حکومت کے حامل ملک کی سرحدوں کی لمبائی 6یزار774کلومیٹرطویل ہیں۔شمال اور مغرب میں واقع پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کی طوالت 2ہزار430کلومیٹر،مشرقی جانب واقع بھارت کے ساتھ 2ہزار912کلومیٹر،ہمسائیگی کا حق ادا کرنے والے چین کے ساتھ شمال مشرقی جانب 523کلومیٹر اورجنوب مغرب میں ایران کے ساتھ909کلومیٹرہے۔بحیرہ عرب میں واقع بحری سرحد[کوسٹ لائن]کی طوالت 1ہزار46کلومیٹر ہے۔
وسیع سمند،اونچے پہاڑوں،دور تک پھیلے صحرائوں اور نظر کو خیرہ کر دینے والے نخلستانوں پر مشتمل ملک معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔سطح سمندر سے8ہزار611میٹر بلند چوٹی کے-ٹوسمیت ہمالیہ،ہندوکش،قراقرم اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں پر مشتمل کوہستانی علاقہ خوبصورتی کی زندہ مثال ہے۔انتہائی گرم اور انتہائی سرد علاقوں کا ملک سردی،گرمی،بہاراورخزاں چاروں موسم رکھتا ہے۔
زبان
سرکاری زبان کے طور پر تسلیم مگر اس جیسے رتبے سے محروم اردو کے علاوہ انگریزی،پنجابی،سندھی،بلوچی ،پشتو، ہندکو،گوجری،براہوی، شینا، گجراتی، میمنی،سرائیکی اورعربی و فارسی بولی،پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ پنجابی بولنے والے سب سے ذیادہ 48فیصد،سندھی بولنے والے 12فیصد، سرائیکی 10فیصد،پشتواوراردو بولنے والے8فیصد، بلوچی3فیصد، ہندکو2فیصد ، براہوی 1فیصد،دیگر زبانیں بولنے والےکل آبادی کا 8فیصد ہیں۔
خواندگی
سرکاری سطح پر بیان کئے جانے والے اعدادوشمار کے اعتبار سے کل آبادی کا49٫9فیصد حصہ خواندہ ہے۔[کسی بھی سطح پر کوئی ٹھوس کوشش نہ کئے جانے کے باوجود 15سال سے زائد عمر کے لکھ اور پڑھ لینے کے معیار پر سہی یہ شرح خواندگی بھی غنیمت اور سخت جان قوم ہونے کی علامت ہے۔جن میں مردوں کا حصہ 63فیصد اور عورتوں کا 36فیصد ہے]15تا24برس کے نوجوانوں میں خواندگی کی شرح کہیں بہتر ہے۔جو لڑکوں میں 80فیصداور لڑکیوں میں60فیصد ہے۔
آبادی

ایک محتاط اندازے کے مطابق 18کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کے چھٹے بڑےملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے ایک فیصد زائد [کل آبادی کا اکیاون فیصد]ہے۔1990ء تک سالانہ 3٫1فیصد کی رفتار سے بڑھنے والی آبادی میں موجودہ اضافہ 1٫5فیصد کی رفتار سے ہو رہا ہے۔جو اسے دنیا میں آبادی میں اضافہ کے لحاظ سے 77ویں درجے پر فائز کرتا ہے۔سالانہ 3٫3فیصد کے تناسب سے شہروں کو منتقل ہوتی آبادی کے باوجود شہری علاقوں میں موجود افراد کی تعداد کل آبادی کا36فیصد ہے۔کل آبادی کا37فیصد14برس سے کم عمر،59فیصد64برس سے کم عمر اور محض 4فیصد65سال سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔اوسط عم رکے لحاظ سے عورتیں،مردوں سے آگے ہیں جن کی عمر کی حد 67برس جب کہ مردوں کی 65برس قرار دی جاتی ہے۔
وسائل
انتہائی زرخیز زمین،قدرتی گیس،پٹرولیم،لوہے،لائم اسٹون،کوئلے،سونے،نمک،تانبے،سمیت ساڑھے 6 کروڑ سے زائڈ لیبر فورس اورآبادی کا60فیصد سے زائد 30برس سے کم عمر افراد حقیقی دولت ہے جو اپنے استعمال کی منتظر ہے۔ زرعی وسائل میں کاٹن،گندم،چاول،گنا، پھل، سبزیاں، دودھ،گوشت،جب کہ صنعتی پیدوار میں ٹیکسٹائل مصنوعات،کھانے کی اشیاء،ادویات،تعمیراتی سامان،کاغذ اور کھاد قابل ذکر ہیں۔ ملکی معیشت میں سب سے ذیادہ شئیر سروس سیکٹر کا54فیصد زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کا20فیصداور صنعتوں کا24فیصد ہے۔سروس سیکٹر سے وابستہ لیبر فورس کل افراد کار کا 36فیصد،زراعت سے 43 فیصداور صنعتوں سے 20فیصد ہے۔بیروزگاری کا تناسب حکومتی سطح پر تسلیم کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق 14 فیصد ہے۔جس میں موجودہ پالیسیوں اور بیرونی جنگوں کا حصہ بنے رہنے کے سبب اضافے کی پیشن گوئی کی جا رہی ہے۔
مذاہب
95فیصد مسلم اور ہندو،سکھ،قادیانیوں،عیسائیوں سمیت5فیصد آبادی غیر مسلم افراد پر مشتمل ہے۔مختلف مذاہب سے متعلق افراد کایہ تعلق ابتداء سے ہی مثالی رہا ہے تاہم مخصوص ایجنڈے پر عمل یا بھآری امداد خرچ کرکے مذموم عزائم پورا کرنےکی کوشش کبھی کبھار اسے خراب کرنے سے باز نہیں آتی۔خّش قسمتی یہ ہے کہ ایسی ہر کوشش دو چار پریس کانفرنسوں،اڑھائی،پونے دو مظاہروں اور سوا یا ڈیڑھ بھڑکوں کےبعد ہوا نکلے غبارے کے مانند پھس پھسی ہو جاتی ہے اورعامتہ الناس پھڑ سے باہم شیروشکر رہنے لگتے ہیں۔
مواصلات
4ہزار5سو سے زائڈ ٹیلیفون لائنوں کے ساتھ پاکستان دنیا کا تینتیسواں بڑا لینڈ لائن فون استعمال کرنے والاجب کہ موبائل فونز کے استعمال کے لحاظ سے 9کروڑ10لاکھ موبائلیوزرز کی بنیاد پر دنیا کا نواں بڑا ملک ہے۔3لاکھ سے زائڈ انٹرنیٹ ہوسٹس کے لحاظ سے دنیا کا57واں اور انٹرنیٹ استعمال کنندگان کی تعداد[1کروڑ85لاکھ]کے لحاظ سے بیسواں بڑا ملک ہے۔148ائیر پورٹس، 20 ہیلے پورٹس،7ہزار791کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک،2لاکھ59ہزار197کلومیٹر طویل سڑکوں اور دو مکنل اور ایک زیر تعمیر بندرگاہ کے ساتھ قابل رشک مواصلاتی نیٹ ورک کا حامل ملک ہے۔یہ اشیاء جہاں اس ملک کا اثاثہ ہیں وہیں وسائل، مواصلات اور لیبر فورس کی کثرت عالمی شاطروں کا جی للچانے کو کافی سامان قرار دیا جاتا ہے۔
عسکری قوت
اگر چہ پاکستان 28مئی1998ءکو یکے بعد دیگرے سات ایٹمی دھماکے کر کے اعلانیہ طور پر سات رکنی اور غیر اعلانیہ طور پر دس رکنی[اسرائیل،کوریا،ایران]ایٹمی کلب کا ممبر بن گیا تھا۔لیکن اس کی اصل قوت کسی بھِی وقت ضرورت پڑھنے پر دستیاب 8کروڑ75لاکھ سے زائد وہ افراد قرار دئے جاتے ہیں جو عالمی اصولوں کے مطابق لڑائی میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ملکی جی ڈِ پی کا ساڑھے تین فیصد دفاع پر خڑچ کرنے والے ملک پاکستان کی فوج گزشتہ طویل عرصے سے ایک ایسی جنگ میں شامل کر دی گئِ ہے جس کی آگ بھڑکانے والا اپنے اتحادیوں سمیت اس سے فرار کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔
اوپر بیان کئے گئے اعدادوشمار محض ہندسے نہیں 63برسوں کا حاصل ہیں۔یوں تو متعدد شعبے اس لائق ہیں کہ ان پر کتابیں تصنیف کی جائیں اورانہیں ہر آنکھوں والے اندھے،کانوں والے بہرے ،زبان رکھنے والے گونگے،دماغ رکھنےوالے غائب الدماغ،فہم رکھنے والے بے عقل کے سر پر کھڑا ہو کر اسے اس وقے تک گھول کر پلایا جائے جب تک وہ اپنے پاس موجود اشیاء کا ادراک اور غیر موجود کی دستیابی کا عزم نہ کر لے۔دانشور کہلانے والے ہر بقراط کی جانب سے مایوسی پیدا کرنے کی لغو کوششیں ترک نہ کر دی جائیں۔خالہ کا گھر جان کر لوٹنے والے ہر لٹیرے کے لوٹنے کی عادت ختم نہ ہو جائے۔کڑھتے رہنے والے کو بہتری کا راستہ نظر آنا شروع نہ ہو جائے اورمارکیٹنگ کے نام پرجھوٹ،دھوکہ اور فریب کے بل بوتے پر انسانی نفسیات کا بازار سجانے والوں کو اپنی دکان بند نہ کرنا پڑے۔لیکن اس تحریر میں بیان کئے گئے حقائق اب بھِی اس قابل ہیں کہ وہ محض لاعلمی کے سبب پریشان فرد کے اضمحلال کو دور کر سکیں۔تاریکی میں روشنی پیدا کر سکیں۔بیٹھ جانے والے کو کھڑا ہونے پر آمادہ کر سکیں،رکے ہوئے کو چلا سکیں اور سبقت لے جانے کی دوڑ سے ازخود باہر ہو جانے والے کو دوبارہ سے جدوجہد کا حصہ بنا دیں۔
یہی اس تحریر کا مقصد ہے۔آئے ان ٹمٹماتے دیوں کو صبح کا ستارہ جان کر اپنے سفر کا نئے سرے سے آغاز کریں۔اسی سفر کا جو 14اگست1947کو اپنے جوبن پر نظر آیا تھا۔یہی آج کی آواز ہے،یہی میری رائے ہے اور یقینا آپ کی بھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟

6 comments:

  1. beautiful Idea in nice words. Plz Keep it up for Pakistan and Pakistanis.

    ReplyDelete
  2. پاکستان کے متعلق عمدہ اور مفید معلومات شئیر کرنے پر مبارکباد قبول کیجئے۔
    ہم میں سے ہر ایک اگر اپنے حصے کا کام شروع کر دے تو حالات کی تبدیلی مشکل کام نہیں ۔
    دعا ہے کہ آپ کی تحریر کا مقصد حاصل ہو اور ہماری زندگیوں ہی میں ہو۔آمین
    تحریم کاظمی

    ReplyDelete
  3. bhai aap Pakistan ki baat kar rahe heen aur start mein hi Pakistan ka map wrong laga dia jis mein Kashmir India mein hai

    ReplyDelete
  4. جناب من

    پاکستان کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی یہ اچھی کوشش ہے۔اگرچہ ہمارے پیارے وطن کو دشمنوں نےچوروں ڈاکوؤں بھتہ خوروں کی مدد سے یرغمال بنا لیا ہے لیکن ہم انشااللہ جلد ان سے نجات حاصل کرلیں گے کیونکہ پاکستان کے عوام قربا نیاں دینا جانتے ہیں۔ برے حالات کے باوجود پاکستان پر اللہ کی رحمت ہے. یہ ملک قائم رہنے کے لیے بنا ہے اورقائم رہےگا۔ برائے مہربانی پاکستان کا نقشہ درست کرلیجئے۔آپ نےمقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھا دیا ہے ۔ایسی غلطیاں قابل معافی نہیں۔۔

    سید عرفان علی یوسف

    ReplyDelete
  5. محترم معین صاحب اورعرفان یوسف صاحب
    توجہ دلانے کا شکریہ۔
    اپ ڈیٹر کی غلطی سے ہونے والایہ غلط کام جلد درست کر دیا جائے گا۔
    توقع ہے کہ محبتوں کا سلسلہ جاری رہے گا

    ReplyDelete
  6. محترم معین خآن صاحب اور سید عرفان علی یوسف صاحب۔
    درست نقشہ شائع کر دیا گیا ہے۔ایک بار پھر توجہ دلانے کا شکریہ

    ReplyDelete