Monday, November 22, 2010

تاریخ کا حساب ،تبدیلی اورنوجوان


ہر انسان ،گروہ یا ادارہ کوئی بھی کام اس لئے کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اسے کچھ فوائد حاصل ہوں یا اس کی ضرورت پوری ہو۔کپڑے پہننے والا کپڑے اس لئے پہنتا ہے کہ جسم کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ موسم کی حدت یا ٹھنڈک سے اپنے آپ کو بچا سکے۔اندھیرے راستے پر چلنے والا روشنی اس لئے ہمراہ رکھتا ہے کہ ٹھوکرکھانے سے بچ سکے۔پیاسا پانی اس لئے پیتا ہے کہ پیاس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے قراری اور طلب کو پورا کیا جا سکے۔کمزور نظر کا حامل فرد معالج کے مشورے سے چشمے پہننے کا اضافی بوجھ اس لئے اٹھاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں نظر نہ آنے یا کم دکھنے کی پریشانی سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔بھوکا غذا کے حصول کی تگ و دو اس لئے کرتا ہے کہ پیٹ بھر کر زندہ رہنے کا سامان کیا جا سکے۔عبادت اس لئے کی جاتی ہے کہ نتیجتا رب کی رضا حاصل ہو سکے،تعلیم کے حصول کا مقصد شعور میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اچھی ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔مکان کو گھر بنانے کا سبب افزائش نسل،تنہائی کاخاتمہ اوردیگر ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے۔اداروں کا قیام ریاستی ڈھانچے کو چلانے کے لئے،سپاہ کا ملکی سرحدوں کی حفاظت ،عدلیہ کا انصاف کی
 فراہمی،حکومت کا ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے کوششیں کرنا بنیادی ہدف قرار دیاجاتاہے۔


فطری قانون یہ ہے کہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی کوششیں اوران کا معیار ہی نتائج کا تعین کرتاہے۔اس مرحلے پر بہتر منصوبہ بندی،تمام تر انسانی ومادی وسائل بروئے کار لا کرمنصوبے میں رنگ بھرنے کی کوشش،اہداف حاصل کرنے کے ذمہ دارافراد کی وابستگی ،اندرونی وبیرونی حالات بھی نتیجہ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔یہ امور اگرچہ خود مقصدنہیں ہوتے، حصول مقصد کا ذریعہ ہوتے ہیں لیکن ان کی افادیت پر کلام نہیں کیا جا سکتا۔کبھی کبھی یوں ہو تا ہے کہ ضمنی اشیاءمقصد بن کر ہدف کو نظر سے اوجھل کر دیتی ہیں اور یوں انسان یا گروہ جن کاموں کو مقاصد حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں وہ حاصل کرنے کے بجائے کہیں بھٹک جاتے ہیں۔

ایساہی کچھ تیسرے دنیا کے ممالک خصوصا پاکستان کے ساتھ ہورہا ہے۔جہاں کے باسی دنیا کو تیزی سے بدلتا دیکھ کر اس کی طرح تبدیل ہونا چاہتے ہیں۔لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بدلنے والوں کو اس تبدیلی کی جو قیمت دینا پڑی وہ مفید تھی یا تباہ کن۔اس کا طریقہ کاراندازوں کے مطابق مفید رہا یا زہریلے ثمرات کی صورت سامنے آیا۔اقدار کو مستحکم کیا یا ان کی خامیوں میں مزید اضافہ کا ذریعہ بنا۔کہنے کو توقیام وطن کا مقصد اپنی عوام کی فلاح وبہبود قرار دیا جاتا رہا ہے،تاہم یہ نظر انداز کر دیا گیا کہ عوامی فلاح کا یہ اولین ہدف مقصد نہیں بلکہ حصول مقصد کا ذریعہ ہے۔اصل مقصد عوامی فلاح کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں امن و انصاف ہو،برابری اور ترقی کے یکساں مواقع ہوں۔رہائش،خوراک اورلباس کے ساتھ تعلیم کا حق مانگ کرحاصل کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے مہیا کی جانے والی بنیادی اشیاءہوں۔1947ءکے بعد سے یہ کام کلی طور پر درکنار جزوی سطح پر بھی نہیں ہو سکے۔پاکستان جرنیلوں،کرپٹ بیوروکریسی اورایڈہاک ازم کے حامی سیاستدانوں کی چراگاہ بنا رہا۔بھان متی کے ہر نئے کنبے نے آتے وقت بلندوبانگ دعوے کئے اور چوم دیکھنے کے بعد پتھر بھاری محسوس کر کے”بڑے عرصے کا گند ہے چند دنوں میں صاف نہیں ہو سکتا کہہ کر اپنی جان چھڑا لی۔نتیجہ نوجوانوں ،مزدوروںاورکسانوں کی خودکشیوں،خوفناک حد تک بڑھ جانے والی غربت،کمزور اداروں اورمکروہ میٹریلزم کی صورت سامنے آیا ہے۔

انسان سوچتا اپنے بھلے ہی کی ہے لیکن ایسا سوچتے ہوئے وہ اپنے اردگرد والوں کے معاملے میں بے حس ہو جاتا ہے ۔یہ بے حسی کسی اور صورت خرابی پیدا کرتی ہے۔وہ ہر کام یہ سوچ کر کرتا ہے کہ اس سے اسے فلاں اورفلاں فائدے حاصل ہوں تا ہم کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ کام جس مقصد کے لئے کیا جائے نتائج اس کے الٹ نکل آتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں وجوہات کا جائزہ لے کر ایسے حل پر عمل کیاجاتا ہے کہ وہ مسئلہ دوبارہ سامنے نہ آئے لیکن اگر بار بار ایک ہی جیسا مسئلہ سامنے آنے اور کسی بھی کام کے مطلوب نتائج حاصل ہونے کے بجائے پرانی روش برقرار رہے تو اس عادت کو انتہائی ہلاکت خیز تصور کیا جاتا ہے۔ان عادات کے نتیجے میں گروہ بکھرتے،معاشرے تباہ ہوتے اور ملک شکست و ریخت کا شکار ہوتے ہیں۔

پاکستان کے کل اورآج کی بس یہ کہانی ہے۔مگر اس کا انجام یا حل کہاں ہے؟ یقینا ایساتاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا۔لہذا اس بات کا امکان ہے کہ ان خرابیوں کو معاشرے سے نکالا جائے۔اور بجائے نئے تجربے کرنے کے آزمائے ہوئے طریقوں کو استعمال کیا جائے۔تاہم جو بات اب تک گزرے عرصے سے ثابت ہو چکی وہ یہ ہے کہ قیادت کہلانے والا افراد کا موجودہ گروہ یہ کام نہیں کر سکتا۔نہ ہی مروج نظام اس قابل ہیں کہ خرابیوں کے خمیر سے پکنے والی روٹی کو صحت مند قرار دے کر مزید سنبھال کر رکھا جائے۔اس کے ساتھ وہی کرنا ہو گا جو کھانے کی نیت سے پکائی گئی روٹی باسی ہو جانے کی صورت اسے کباڑئے یا باسی ٹکڑے والے کو دے کر کیا جاتا ہے۔اگر یہ لوگ اس کام کو کرنے کے اہل نہیں تو پھر یہ کام کون کرے گا؟اس سوال کا جواب ہی دراصل آئندہ کا منصوبہ ترتیب دینے کی بنیاد بننا ہے۔اور یہ سوال بھی اتنا مشکل نہیں تاریخ کا استاد ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مثبت تبدیلی جب بھی کہیں آئی ہے،اسے لانے والے معاشرے کے مظلوم طبقات خصوصا نوجوان ثابت ہوئے ہیں۔اب بھی یہی دونوں قوتیں موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کا سبب بنیں گی۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے کہیں ایسانہ ہو کہ آج اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھ کر تماشائی بنے رہنے والے کل جب ایسا کرنا چاہیں تو پھر موقع نہ رہے۔اور انقلاب فرانس کی مانند ہاتھوں کو دیکھ کرمحنت کش اور غیر محنت کش میں تفریق کی جائے۔مگر اس وقت جن کے ہاتھوں پر محنت کی نشانیاں نہ ہوئیں ان کا انجام ۔۔۔۔۔۔؟؟؟اوراگر حالات بدلنا ہیں جن کے سوا کوئی چارہ نہیں تومعاشرے پر ہر لمحہ بڑھتے جمود سے لاتعلق ہو کر حرکت میں آنا ہوگا ۔یہ آج کی حقیقت ہے اور جو لوگ اس حقیقت سے آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں،انہیں کل بھی کچھ نظر آنے کا امکان نہیں۔کاش ہم وہ وقت آنے سے پہلے خود احتسابی پر تیار ہو جائیں ورنہ تاریخ کا حساب اور اس کی جوابدہی بڑا کٹھن معاملہ ہوتا ہے۔کٹھن اس کا رخ بدلنے کی کوشش بھی ہے ،لیکن جوانی نام ہی اس قوت کا ہے جو غلط کو درست کرنے کے لئے ہمالیہ سے سر ٹکرا دیتی ہے اور پتھروں سے بھی پانی کے چشمے نکال لیتی ہے۔

2 comments:

  1. اگر اس کے فانٹ کو نستعلیق میں کر دیں
    تو بہت ہی اچھا لگے گا ۔

    ReplyDelete
  2. محترم نور صاحب
    توجہ دلانے کا شکریہ۔آُ کی نشاندہی کے متعلق جلد تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی۔

    ReplyDelete